وندے ماترم کی لازمی گائیکی غیر ضروری بوجھ ہے: ششی تھرور
ششی تھرور نے کہا، ہر سرکاری تقریب میں مکمل وندے ماترم لازمی گانا غیر ضروری بوجھ اور روایت سے ہٹ کر ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمان ششی تھرور نے ’وندے ماترم‘ سے متعلق جاری تنازع پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سرکاری تقریب کے آغاز اور اختتام پر پورا وندے ماترم گانا لازمی قرار دینا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندی پروگرام میں موجود لوگوں کے لیے غیر ضروری بوجھ بن سکتی ہے۔یہ بات کیرالہ کے دارالحکومت ترواننت پورم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ وہ وندے ماترم کی مخالفت نہیں کر رہے، بلکہ صرف اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہر چھوٹے اور بڑے سرکاری پروگرام میں اس کے تمام بند دو مرتبہ گانا کہاں تک ضروری ہے۔ ان کے مطابق رسمی اور قومی سطح کے اہم پروگراموں میں ایک مرتبہ وندے ماترم پیش کرنا قابلِ فہم ہے، لیکن ہر تقریب میں پورا گیت شروع اور آخر دونوں موقعوں پر سنانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک روایت یہ رہی ہے کہ پروگرام کے آغاز میں وندے ماترم پیش کیا جاتا تھا، جب کہ اختتام پر قومی ترانہ بجایا جاتا تھا، مگر اب نئے انداز میں اس کے تمام اشعار کو لازمی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے وہ غیر ضروری دباؤ تصور کرتے ہیں۔ششی تھرور نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں قومی گیت سے کوئی اعتراض نہیں اور وہ احترام کے ساتھ اسے گانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق وندے ماترم ملک کا قومی گیت ہے اور لوگ اس کے ابتدائی اشعار سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر پیدا ہونے والا تنازع باہمی گفتگو کے ذریعے حل ہو جائے گا۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے تھرور کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی وندے ماترم کے معاملے پر غیر ضروری سیاست کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ داخلہ کے رہنما اصولوں کے مطابق سرکاری تقریبات میں وندے ماترم پیش کرنا لازمی ہے اور اس پر اعتراض ملک کی حب الوطنی پر سوال کھڑا کرتا ہے۔واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ کے مطابق وندے ماترم کے سرکاری طور پر منظور شدہ مکمل ورژن کی مدت تقریباً تین منٹ دس سیکنڈ ہے اور سرکاری و تعلیمی تقریبات میں اس کی ادائیگی کے دوران احتراماً کھڑا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔





