ٹرمپ کا بڑا دعویٰ،11 گھنٹے کی ایران بات چیت آخری لمحے میں ناکام
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران نے 11 گھنٹے مذاکرات کے بعد آخری لمحے میں شرائط بدل دیں، ممکنہ معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات تقریباً گیارہ گھنٹے تک جاری رہے، لیکن ان کے بقول آخری مرحلے میں ایرانی وفد نے پہلے سے طے شدہ نکات میں تبدیلی کی کوشش کی، جس کے باعث ممکنہ معاہدہ آگے نہ بڑھ سکا۔ایک امریکی ٹی وی چینل کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مختلف اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور ان کے مطابق بیشتر نکات پر اتفاقِ رائے بھی قائم ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ دونوں ممالک ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جہاں کسی سمجھوتے کا اعلان کیا جا سکتا تھا۔
ٹرمپ کے مطابق ملاقات مکمل ہونے کے بعد ایرانی نمائندے اجلاس سے روانہ ہو گئے، لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ رابطہ کرکے انہوں نے بعض نکات میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی۔ امریکی صدر نے اس صورتِ حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں بار بار شرائط بدلنے سے اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے اور کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے مذاکرات کار طویل گفت و شنید کو ترجیح دیتے ہیں اور اکثر آخری وقت میں نئی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی رائے میں اتنے طویل مذاکرات کی ضرورت نہیں تھی اور اگر دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے تو معاملات کہیں زیادہ تیزی سے طے ہو سکتے تھے۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلی منصوبہ بیان نہیں کیا، تاہم ان کے اس بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ مختلف امریکی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات میں پیچیدگی پیدا کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات میں بھی ایران نے آخری لمحے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس سے پیش رفت رک گئی۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے ٹرمپ کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے ان بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔






