سیاسی بصیرت

ٹرمپ کی کشمکش

ودود ساجد

ایڈیٹر: روزنامہ انقلاب

10 جولائی کو اسرائیل نے اپنی انٹلی جنس کی رپورٹ کی بنیاد پر امریکہ کو انتباہ دیا کہ ایران نےصدر ٹرمپ کو قتل کرنے کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 11 جولائی کو ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا انتباہ آگیا کہ ایران اپنے مقتول سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے قتل کا انتقام لینے کیلئے پرعزم ہے۔ اس کے فوراً بعد امریکہ کے صدر ٹرمپ نے دھمکی دیدی کہ اگر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایک ہزار میزائل ایران کی طرف رخ کئے ہوئے تیار کھڑے ہیں اوراس کے بعد ایران پر مزید ہزاروں میزائلوں سے حملہ کیا جائے گا۔

اگر ان تینوں بیانات کو جوڑ کر کوئی ایک نتیجہ اخذ کیا جائے تو وہ یہی ہے کہ مشرق وسطی میں ابھی امن کا قیام بہت دور ہے۔ حالانکہ امریکہ اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل اسے گھسیٹ کر واپس جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ آٹھ جولائی کی شام اچانک ختم ہوجانے والی جنگ بندی نو جولائی کو پھر راستہ پر واپس آگئی تھی اور پاکستان اور قطر کی کوششوں سے امریکہ اور ایران نے حملے روک کر پھر تکنیکی گفتگو کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس سے پہلے امریکہ نے ایران کے 170 مقامات پر حملے کئے تھے جن میں ایران کے ایک درجن سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ جواب میں ایران نے بھی کئی عرب ملکوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کئے۔

ایران نے پہلی بار اسرائیل کی سرحدوں سے متصل عرب ملک اردن میں امریکی اڈے پر 10 میزائل داغے۔ اردن کو مملکت ہاشمی کہا جاتا ہے اور اس کا اسرائیل کے ساتھ برسوں پرانا امن معاہدہ ہے۔ لہٰذا ایران جب بھی کوئی میزائل اردن کی فضائوں کو چیرتے ہوئے اسرائیل کی طرف داغتا ہے تو اردن اس میزائل کو اسرائیل پہنچنے نہیں دیتا اور اپنی ہی فضائوں میں اسے ناکارہ بنا دیتا ہے۔ اس اعتبار سے اردن کسی بڑے فائدہ کے بغیر فلسطین کے لاکھوں انسانوں کے قاتل اسرائیل کا تحفظ کرتا آرہا ہے۔ اگر اردن اسرائیل کی طرف جانے والے میزائلوں کو نہ روکتا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کا کتنا نقصان ہوچکا ہوتا۔

ایک نکتہ اور نوٹ کرنے کے لایق ہے: اب کچھ ہفتوں سے جب بھی ایران کو جوابی حملے کرنے پڑے تو اس نے متحدہ عرب امارات یعنی دوبئی یا ابوظہبی میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے نہیں کئے۔ جبکہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات میں ہی کئے تھے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کروڑوں ڈالر کا لین دین ہوا ہے۔ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے اپنے بینکوں میں جمع ایران کے کئی بلین ڈالر ضبط کرلئے تھے۔ ایک سمجھوتہ کے تحت ایران کا وہ پیسہ بھی اسے واپس دیدیا گیا۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر مسلسل ربط و ضبط جاری ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا کہ 10 جولائی کو ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران سے مسلسل بات کرتے رہیں گے لیکن جنگ بندی تو ختم ہوچکی ہے۔‘ کچھ دیر کے بعد ٹرمپ نے پھر کہا کہ ایران ہم سے معاہدہ کا خواہش مند ہے اور اسی نے حملے روک دینے کی درخواست کی ہے۔ اس سے پہلے ایران کے ایک اعلی عہدیدار نے دھمکی دی تھی کہ امریکی حملوں کے جواب میں اب ہم اسرائیل پر بھی حملے کریں گے۔ اس سے قبل جولائی کے پہلے ہفتے میں رپورٹس آتی رہیں کہ ٹرمپ مکمل جنگ کی طرف واپس لوٹنے پر غور کر رہے ہیں لیکن ان کی اولین ترجیح سفارتکاری ہے۔ 10 جولائی کو ہی خبر آئی کہ نتن یاہو کی شدید خواہش ہے کہ وہ بھی امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوجائے۔ لیکن اس وقت تک امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے روک چکے تھے۔

جولائی کے پہلے ہفتہ میں نتن یاہو نے کہا تھا کہ ایران اور اس کے معاونین کے خلاف ہماری مکمل فتح حاصل کرنے کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بس اصل مسئلہ کی جڑ یہیں ہے۔ اسرائیل ہرگز اس جنگ کو امن کی خاطر ختم نہیں کرنا چاہتا۔ امریکہ اپنی عزت کی خاطر اس جنگ سے ہرحال میں نکلنا چاہتا ہے۔ ایران ان دونوں کی اس کمزوری کو سمجھ گیا ہے۔ لہذا وہ اپنے مسلسل نقصان کی قیمت پر بھی ہر صورتحال کیلئے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز کی تفصیل انہی کالموں میں پہلے عرض کرچکا ہوں۔ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایران پر شدید حملے کرکے ایران کو یہ باور کرا دیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی شکل میں اس کے پاس نیوکلیر بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے مقابلہ میں ہتھیاروں کے اعتبار سے کمزور ہونے کے باوجود خطہ میں بالادستی ایران کو ہی حاصل ہے۔ یمن کی حوثی جماعت نے گوکہ پہلی بار 26 جولائی 2018 کو باب المندب (کی بحری گزرگاہ) میں سعودی عرب کے دو تیل ٹینکروں پر حملہ کیا تھا اور سعودی عرب نے اس گزرگاہ کو استعمال کرنا بند کردیا تھا تاہم غزہ میں اسرائیل کی بھیانک بمباری کے دوران 14 دسمبر 2023 کو حوثیوں نے باقاعدہ اسرائیل کے جہازوں کیلئے اس گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کرکے ایران کو یہ راستہ دکھا دیا تھا۔ اس گزرگاہ سے اسرائیل اور اس کی طرف جانے والے دوسرے ملکوں کے جہازوں پر حملے بھی کئے گئے تھے۔

مارچ 2025 میں امریکہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر زوردار فضائی حملے شروع کردئے لہذا حوثیوں نے بحیرہ احمر میں امریکہ کے بحری جہازوں پر جوابی حملے شروع کردئے۔ آ خرکار اومان نے ثالثی کی اور امریکہ اور حوثیوں کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر حملے روک دئے۔ لیکن حوثیوں نے واضح کردیا کہ اسرائیل کے خلاف ان کے حملے جاری رہیں گے۔ لہذا یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ یمن کے حوثیوں اور ایران اور اومان کے پاس دنیا کی 43 فیصد سپلائی بند کرنے کی طاقت موجود ہے۔ اس وقت صرف آبنائے ہرمز کی 20 فیصد سپلائی متاثر ہے اور پوری دنیا خاص طور پر امریکہ اور ایشیا کے ممالک اس سے بری طرح متاثر ہیں۔ ایران اس مفہوم کا بیان کئی بار دے چکا ہے کہ آبنائے ہرمز سرکش امریکہ کیلئے کھیل کا میدان نہیں ہے۔

اس جنگ سے سرخروئی کے ساتھ نہ سہی کم سے کم باعزت طور پر نکلنے کیلئے امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کئی بار کوشش کی اور اس نشانہ کو حاصل کرنے کیلئے ٹرمپ نے نتن یاہو تک کو اس قضیہ سے الگ کردیا لیکن سرکش نتن یاہو نے ٹرمپ کی ایسی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا۔ 29 جون کو اسرائیل ملٹری کے محکمہ انٹلی جنس نے حکومت کو رپورٹ سونپی کہ حماس کی سب سے ممتاز ’نکبہ فورس‘ میں بڑے پیمانے پر 18 سے 22 سال کی عمر کے جنگجوئوں کی بھرتی ہورہی ہے اور حماس نے انہیں ٹریننگ دینے کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ دوبارہ ایک بڑی جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکہ میں بعض مبصرین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ درست ہو یا نادرست لیکن ایک بات طے ہے کہ اسرائیل ہر حال میں خطہ میں امریکہ کو الجھائے رکھنا چاہتا ہے۔

’وال اسٹریٹ جنرل‘ کے ذریعہ شائع اسرائیلی انٹلی جنس کی اس رپورٹ کے جواب میں کہ ایران نے ٹرمپ کو قتل کرنے کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے‘ امریکی افسران نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کی صداقت مشکوک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس انکشاف کے ذریعہ نتن یاہو ٹرمپ کے ساتھ دوبارہ تعلقات کو استوار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن بہرحال یہ تو مسلمہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ بھلے ہی نتن یاہو سے نالاں نظر آتے ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے خیر خواہ عربوں تک کی قیمت پر اسرائیل کے ’گریٹر اسرائیل‘ جیسے خواب کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی اسی کی طرف پہلا قدم تھا۔

ادھر اسرائیل میں ٹیلی ویزن چینل 13 نے ایک عوامی سروے کیا ہے جس کے مطابق تین چوتھائی اسرائیلی شہریوں کو خوف ہے کہ سات اکتوبر 2023 جیسا حملہ پھر ہوسکتا ہے۔ اسرائیل کے سائبر چیف ’یوسی کرادی‘ نے کہا ہے کہ 2026 میں ایران کی طرف سے اسرائیل میں ہونے والے سائبر حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ کرادی نے بتایا کہ جون 2025 میں جنگ کے دوران ایران نے 1600 سائبر حملے کئے تھے جبکہ دوسری جنگ کے دوران جولائی 2026 تک 4800 سائبر حملے کرچکا ہے۔ کرادی کا دعوی ہے کہ ایران سائبر گینگ کے کچھ گروپ تو بہت ہی زیادہ مشاق ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کھلے طور پر عہد کرے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اب حملے نہیں کرے گا اور یہ بھی کہ نیوکلیائی مواد امریکہ کے حوالے کردے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران بڑی تیزی کے ساتھ پھر نیوکلیر مواد تیار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پھر امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران میں بھیانک بمباری سے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ انقلاب اسلامی کی حکومت جوں کی توں موجود ہے‘ ان کی میزائل اور ڈرون سازی کی صلاحیت میں بھی کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے اور نیوکلیر مواد کی تیاری بھی جاری ہے۔ اسی طرح اگر حماس کے تعلق سے مذکورہ بالا رپورٹس درست ہیں تو پھر اسرائیل کو ہی ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کرکے کیا ملا؟ اس نے 75 فیصد غزہ کو تباہ کرکے کیا حاصل کرلیا؟

اس پورے منظر نامہ میں عربوں کی صورتحال بہت نازک ہے۔ ایران کے حملوں کے سبب مادی‘ سیاسی اور سفارتی نقصانات اٹھانے کے باوجود عرب ممالک نے جوابی حملوں کا راستہ اختیار نہیں کیا اور سفارتکاری کو ترجیح دی اور آج بھی اسی میدان میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر قطر‘ مصر اور سعودی عرب شامل ہیں۔ اب تو متحدہ عرب امارات بھی شامل ہوگیا ہے۔ ایران نے خطہ کی یہ کمزوری بھی پکڑلی ہے کہ عرب ممالک اس کی جارحیت کا جواب اسی انداز میں نہیں دے سکتے۔ یہ ایک بہت عجیب وغریب صورتحال ہے۔ ایسے میں اگر عربوں نے بھی ایران کی طرح جارحیت کا راستہ اختیار کیا ہوتا تو امریکہ اور اسرائیل کی انہیں جنگ میں الجھانے کی خواہش پوری ہوجاتی اور عربوں کا ڈھانچہ بکھرجاتا۔

ٹرمپ اور نتن یاہو دونوں نے یہی سوچا تھا کہ شروعات ہم کردیں گے اور پھر عربوں کو اس جنگ میں الجھاکر الگ ہوکر تماشہ دیکھیں گے۔ عربوں کا کمزور ہونا اسرائیل کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے۔ مضبوط عرب بھی اسرائیل کی راہ کا روڑا ہیں۔ ایران نے واضح کردیا ہے کہ اب امریکہ سے اسی وقت گفتگو ہوگی جب وہ اپنے موجودہ موقف سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

انتہائی غیر جانبدار انہ تجزیہ اسی نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ ایران نے مشرق وسطی میں سیاسی اور سفارتی بالادستی حاصل کرلی ہے۔ اس نے مقتول سپریم لیڈر خامنہ ای کے قتل کا بھی بھرپور سیاسی اور سفارتی فائدہ اٹھالیا ہے۔ ان 100 ممالک میں بڑی تعداد عرب اور مسلم ممالک کی بھی تھی جن کے سرکاری وفود خامنہ ای کی تدفین کی رسوم میں شریک ہوئے ‘ ان میں خاص طور پر سعودی عرب بھی شامل ہے۔

ایران کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں ہےجبکہ امریکہ اور اسرائیل نے جو کھو دیا ہے اس کا حاصل کرنا اب جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ ہم جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ اپنے کانوں سے سن رہے ہیں وہ خدائے واحد کی قدرت کا کتنا بے مثال مظہر ہے۔۔۔۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں