آبنائے ہرمز بند، ایران کا امریکہ کو دوٹوک انتباہ، کشیدگی عروج پر
ایران نے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کیا، امریکہ کو سخت انتباہ دیا اور جوابی حملوں کے دعوے سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر طے شدہ وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے، اور اب حالات اسی سمت بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال اس بات کا ثبوت ہے کہ یکطرفہ فیصلوں کو اب قبول نہیں کیا جائے گا۔محمد باقر قالیباف نے اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے پانچویں نکتے کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔ اس دستاویز میں درج ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد ایران ساٹھ روز تک خلیج فارس سے خلیج عمان تک گزرنے والے تجارتی جہازوں کو بغیر کسی اضافی محصول یا فیس کے محفوظ راستہ فراہم کرے گا، تاکہ بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب بھارت میں قائم ایرانی سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا پر اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کا ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اطلاع تک آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا اور جب تک خطے میں امریکی مداخلت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، کسی بھی جہاز کو اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان میں اس فیصلے کو موجودہ سکیورٹی صورتحال سے جوڑا گیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں اس نے آبنائے ہرمز میں موجود ایک اور جہاز کو نشانہ بنا کر روک دیا۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی جوابی اقدامات کے سلسلے کا حصہ ہے۔ اسی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ دوسرے مرحلے میں قطر کے العدید میں واقع امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن کے نتیجے میں جنگی طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا مرکز، نیز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو شدید نقصان پہنچا۔
تاحال امریکہ یا قطر کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جب کہ آزاد ذرائع سے بھی ان اطلاعات کی مکمل توثیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز سے متعلق سامنے آنے والے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ یہ بحری راستہ دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس گزرگاہ میں رکاوٹ برقرار رہی تو عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور خطے کی سلامتی پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






