خان سر کو قانونی فتح، فائرنگ کیس میں ضمانت منظور
پٹنہ عدالت نے فائرنگ کیس میں خان سر، تین ملازمین اور دو سیکیورٹی گارڈز کو ضمانت دے کر بڑا ریلیف فراہم کیا۔
بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی ایک عدالت نے معروف استاد خان سر کو کوچنگ سینٹر میں پیش آنے والے فائرنگ کے مقدمے میں پیر کے روز پیشگی ضمانت دے دی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد مقدمے کے دیگر ملزمان کو بھی قانونی ریلیف ملا ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران خان سر کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے مجموعی طور پر چھ افراد کے حق میں ضمانت کا فیصلہ سنایا۔ ان کے مطابق سب سے پہلے عدالت نے خان سر کی پیشگی ضمانت منظور کی، جس کے بعد ان کے کوچنگ ادارے سے وابستہ تین ملازمین کو بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی۔
وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمے میں گرفتار کیے گئے دو سیکیورٹی گارڈز کو بھی عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے گزشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے اب باقاعدہ طور پر سنا دیا گیا ہے۔یہ مقدمہ پٹنہ کوچنگ سینٹر میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق ہے، جب مبینہ طور پر کچھ افراد نے خان سر کے کوچنگ ادارے میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس واقعے کے دوران حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق کوچنگ ادارے میں تعینات دو سیکیورٹی گارڈز پر الزام ہے کہ انہوں نے واقعے کے دوران گولیاں چلائیں۔ اس کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کی اور مختلف افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اسی مقدمے میں خان سر اور ان کے بعض ساتھیوں کے نام بھی شامل کیے گئے، جس کے بعد انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔
عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد خان سر، ان کے تین ملازمین اور گرفتار سیکیورٹی گارڈز کو قانونی ریلیف فراہم کیا۔ تاہم مقدمہ بدستور زیرِ سماعت ہے اور تفتیشی عمل بھی جاری رہے گا۔ آئندہ سماعتوں کے دوران عدالت میں مزید شواہد اور گواہوں کے بیانات پیش کیے جائیں گے، جن کی روشنی میں کیس کی مزید قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔






