پرینکا گاندھی کی منریگا بل 2025 کے خلاف پارلیمنٹ میں سخت مخالفت
پرینکا گاندھی نے منریگا کی جگہ لائے گئے نئے بل کو آئین مخالف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
مرکزی وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے منگل کے روز لوک سبھا میں منریگا اسکیم کی جگہ ایک نیا مجوزہ قانون ویِکست بھارت ۔ جی رام جی بل 2025 پیش کیا۔ حکومت کے اس قدم پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید اعتراض کیا ہے، خاص طور پر کانگریس کی جانب سے اس بل کی سخت مخالفت سامنے آئی ہے۔کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے ایوان میں اس بل پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جب منریگا قانون متعارف کرایا گیا تھا تو اس وقت پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ اس کی حمایت کی تھی، کیونکہ اس قانون کے ذریعے ملک کے غریب ترین خاندانوں کو بھی روزگار کا حق ملا تھا۔ ان کے مطابق منریگا دیہی عوام کے لیے محض ایک اسکیم نہیں بلکہ معاشی تحفظ کی ضمانت تھی۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بھارتی آئین کی بنیادی روح یہ ہے کہ طاقت عوام کے ہاتھوں میں ہو، اور یہی تصور پنچایتی راج نظام میں بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا مجوزہ قانون اس بنیادی آئینی جذبے کے برخلاف ہے اور اس سے روزگار کا قانونی حق کمزور ہو جائے گا، جو ایک تشویشناک امر ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ منریگا کے تحت پہلے مرکز کی جانب سے تقریباً 90 فیصد مالی امداد فراہم کی جاتی تھی، لیکن اس نئے بل کے ذریعے بیشتر ریاستوں میں مرکزی حکومت کا حصہ گھٹ کر صرف 60 فیصد رہ جائے گا۔ اس کا براہِ راست اثر ریاستی حکومتوں پر پڑے گا اور ان کی معیشت پر اضافی بوجھ آئے گا، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ اس بل کے ذریعے مرکز حکومت کا کنٹرول بڑھایا جا رہا ہے جب کہ اپنی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کو مرکز تک محدود کرنا وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔انہوں نے حکومت کی جانب سے اسکیموں کے نام بار بار تبدیل کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر منصوبے کا نام بدلنے کی ضد سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ اس عمل میں عوامی پیسہ غیر ضروری طور پر خرچ ہوتا ہے، جس کا فائدہ عوام کو نہیں ملتا۔آخر میں پرینکا گاندھی نے مطالبہ کیا کہ اس بل کو بغیر بحث اور پارلیمنٹ کی مشاورت کے منظور نہ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اس بل کو واپس لے کر ایک نیا اور بہتر مسودہ تیار کیا جائے، اور اسے تفصیلی جانچ، غور و فکر اور وسیع بحث کے لیے کم از کم پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کے سپرد کیا جائے، تاکہ دیہی عوام کے مفادات کا صحیح تحفظ ممکن ہو سکے۔





