کیئر اسٹارمر پر استعفے کا دباؤ، برطانوی سیاست میں ہلچل شدید
برطانیہ میں سیاسی بحران گہرا، کیئر اسٹارمر پر استعفے کا دباؤ بڑھا، وزراء مستعفی، لیبر پارٹی میں قیادت تبدیل ہونے کی چہ مگوئیاں تیز۔
برطانیہ کی سیاست میں اس وقت غیر یقینی صورت حال شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسی تناظر میں برطانوی وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ کی ڈاؤننگ اسٹریٹ آمد اور چند ہی منٹ بعد وہاں سے روانگی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویس اسٹریٹنگ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر سے ایک اہم ملاقات کے لیے ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچے تھے، تاہم وہ بیس منٹ سے بھی کم وقت میں وہاں سے واپس چلے گئے۔ اس غیر متوقع پیش رفت کے بعد مختلف سیاسی قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ لیبر پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور قیادت سے متعلق بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث یہ ملاقات خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
ویس اسٹریٹنگ کو لیبر پارٹی کے اُن رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جنھیں مستقبل میں وزارتِ عظمیٰ کا مضبوط امیدوار تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مختصر ملاقات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی جماعت کے اندر سے اٹھنے والے استعفے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور حکومت کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔
یہ تمام صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں کنگ کی اسپیچ ہونے والی ہے، جس میں کنگ چارلس سوم حکومت کے نئے قانون سازی پروگرام اور آئندہ پالیسی منصوبوں کا اعلان کریں گے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس خطاب میں کئی اہم اصلاحات اور نئے قوانین پیش کیے جا سکتے ہیں، جنھیں حکومت اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نئے منصوبے متعارف کرا رہی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا کیئر اسٹارمر اتنے عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر برقرار رہ سکیں گے کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد کرا سکیں۔ گزشتہ روز برطانوی حکومت کے چار وزراء کے استعفوں نے پہلے ہی سیاسی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ادھر لیبر پارٹی کے اسی سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ اعظم سے فوری استعفے یا پھر عہدہ چھوڑنے کی واضح تاریخ دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی نے حکومت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں، جب کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس صورتحال کو حکومت کی کمزوری قرار دے رہی ہیں۔





