منی پور میں حملہ، تین مذہبی رہنما ہلاک، کشیدگی شدید برقرار
منی پور میں مسلح حملے سے تین مذہبی رہنما ہلاک، دو زخمی، کوکی ناگا کشیدگی میں اضافہ، علاقے میں بند اور سکیورٹی سخت۔
منی پور میں ایک بار پھر تشدد نے حالات کشیدہ کر دیے ہیں۔ بدھ کی صبح امپھال۔تامینگلونگ شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں تین مذہبی رہنماؤں کی موت ہو گئی جب کہ دو افراد شدید زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ حملہ صبح تقریباً دس بجے کوٹلین اور کوٹزیم دیہات کے درمیان اُس وقت کیا گیا جب چند گاڑیاں شاہراہ سے گزر رہی تھیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے گھات لگا کر گاڑیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد نشانہ بنے۔ مرنے والوں کی شناخت ریورنڈ ڈاکٹر وی ستلہاؤ، ریورنڈ کائگاؤلون اور پاسٹر پاؤگاؤلین کے طور پر کی گئی ہے۔ تینوں افراد چرچ سے وابستہ اہم مذہبی شخصیات تھے اور ایک مذہبی اجلاس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جب کہ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کے اطراف سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب کوکی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس ٹرسٹ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس واقعے میں ناگا شدت پسند تنظیم این ایس سی این۔آئی ایم اور زیلیانگرونگ یونائیٹڈ فرنٹ کے جنگجو ملوث ہیں۔تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سینئر کوکی چرچ رہنماؤں کے وفد کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق وفد چوراچاندپور سے کانگپوکپی میں ایک مذہبی پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہا تھا، تاہم راستے میں حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنا دیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ وفد میں تھاڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن اور یونائیٹڈ بیپٹسٹ کونسل کے اہم پادری شامل تھے۔
واضح رہے کہ فروری 2026 سے منی پور میں کوکی اور تانگکھل ناگا برادریوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ابتدا ایک معمولی جھگڑے سے ہوئی تھی، لیکن بعد میں یہ تنازع کئی دیہات تک پھیل گیا اور دونوں گروہوں کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ تب سے علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ اور تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔حملے کے خلاف کوکی طلبہ تنظیم نے چوراچاندپور میں دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے غیر معینہ مدت کے بند کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ تھاڈو برادری کی نمائندہ تنظیموں نے بھی کانگپوکپی ضلع کے صدر ہلز علاقے میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تشدد مزید بڑھ سکتا ہے۔





