گیانیش کمارکےخلاف درخواست،سپریم کورٹ آئندہ ہفتے سماعت کرے گی
سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پی آئی ایل پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی، درخواست میں انتخابی فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر ایک مفادِ عامہ کی درخواست پر آئندہ ہفتے سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے کے فرائض انجام دینے سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔یہ معاملہ منگل کو چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کیا گیا۔ بینچ میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا بھی شامل تھے۔ سینئر وکیل وکاس سنگھ نے عدالت سے درخواست کی کہ معاملے کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ بھارت کا الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور اس کے اختیارات اجتماعی طور پر استعمال کیے جانے چاہئیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت کمیشن کے فیصلے اتفاقِ رائے یا اختلاف کی صورت میں اکثریتی رائے سے کیے جانے چاہئیں۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض معاملات میں مطلوبہ طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔
اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے بعض فیصلوں پر اندرونی اعتراضات کا ذکر سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے گزشتہ تقریباً دس ماہ کے دوران متعدد معاملات پر تحریری تحفظات ظاہر کیے تھے، جن میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، فارم 6 میں تبدیلی اور انتخابی ڈیٹا سے متعلق امور شامل تھے۔
درخواست میں ان اعتراضات کو بنیاد بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اصل ریکارڈ، اجلاسوں کی کارروائی، فائل نوٹنگ اور متعلقہ منظوریوں کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ تاہم درخواست میں خود بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس یا اندرونی اعتراضات کی بنیاد پر الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھا جا سکتا اور اصل ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادارے کے اندر اختلافِ رائے انتظامی اور ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہو سکتا ہے اور کمیشن کے فیصلے قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ اب آئندہ ہفتے اس معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔





