الیکشن کمیشن کے باہر بائیں بازو کا احتجاج، کئی رہنما گرفتار
دہلی میں الیکشن کمیشن کے باہر بائیں بازو کا احتجاج، ایم اے بیبی سمیت متعدد رہنما اور کارکن زیرِ حراست۔
نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل، 29 ستمبر کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مرکزی دفتر کے باہر بائیں بازو کی جماعتوں نے احتجاج کیا، جس کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بیبی سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔رپورٹس کے مطابق مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج میں سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن اور دیگر بائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
حراست میں لیے جانے والوں میں سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کی مرکزی کمیٹی کی رکن سوچیتا ڈے اور شویتا راج بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آل انڈیا سینٹر آف ٹریڈ یونینز (اے آئی سی سی ٹی یو)، آل انڈیا لیگ آف جسٹس (اے آئی ایل اے جے) اور دیگر تنظیموں سے وابستہ کارکن بھی احتجاج میں موجود تھے۔سی پی آئی (ایم) کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ پولیس نے مظاہرین کی بات سننے کے بجائے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ پارٹی کے مطابق احتجاج میں موجود افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور اس وقت انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے یا کب رہا کیا جائے گا۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ان جماعتوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)، کے عمل اور اس سے متعلق فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں سے متعلق الزامات اور اعتراضات کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں معاملے پر مزید وضاحت اور کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یوں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ اس وقت بھارت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری اہم تنازعات میں شامل ہے۔





