کیا مصنوعی ذہانت آپ کی ملازمت چھین لے گی
شیخ فہیم الدین
مصنوعی ذہانت، یعنی AI، آج صرف ٹیکنالوجی کی دنیا تک محدود نہیں رہی۔ یہ ہمارے دفتری کام، کاروبار، تعلیم، تحقیق اور روزمرہ کے کئی معاملات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اے آئی ہماری ملازمتیں چھین لے گیاس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں کہ صرف ہاں یا نہیں میں دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اے آئی بہت سے ایسے کام خودکار بنا سکتی ہے جو انسان روزانہ بار بار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر معلومات جمع کرنا، رپورٹ کا خلاصہ تیار کرنا، ڈیٹا کا تجزیہ کرنا، معمول کے دفتری کام انجام دینا اور مختلف کاموں کے لیے ابتدائی مسودہ تیار کرنا اب پہلے کے مقابلے میں بہت آسان ہو گیا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملازمت ختم ہو جائے گی۔ بلکہاے ملازمت کو ختم کرنے کے بجائے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے۔ جو کام پہلے کئی گھنٹوں میں ہوتا تھا، وہ اے آئی کی مدد سے کم وقت میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اس طرح انسان اپنا وقت زیادہ اہم اور تخلیقی کاموں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔مثلاً ایک ملازم اے آئی سے کسی لمبی رپورٹ کا خلاصہ بنوا سکتا ہے، لیکن اس خلاصے کی بنیاد پر کیا فیصلہ کرنا ہے، یہ ذمہ داری اب بھی انسان کی ہے۔ اسی طرح اے آئی نئے خیالات دے سکتی ہے، مگر ان خیالات کو حقیقی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کے لیے انسانی سمجھ بوجھ ضروری ہے۔جو کل تک گرافک گھنٹوں میں بنتا تھا وہ آج منٹوں میں بننے لگا ہے۔
اصل چیلنج AI نہیں بلکہاے آئی کے ساتھ خود کو تبدیل نہ کرنا ہے۔ جو لوگ نئی ٹیکنالوجی سیکھنے، اپنے کام میں اسے استعمال کرنے اور اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے، ان کے لیے کام کے نئے راستے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔اس لیے ہمیں اے آئی سے صرف خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں شاید سوال یہ نہ ہو کہ اے آئی آپ کی ملازمت لے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ آپ اے آئی کو اپنے کام کو بہتر بنانے کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں۔






