آئینی اداروں کا بحران
ودود ساجد
تین رکنی الیکشن کمیشن میں تنہا چیف الیکشن کمشنر کے متعدد اقدامات پر دو کمشنروں کی عدم منظوری‘ ملک بھر میں ایس آئی آر سے متعلق فائلوں پر اختلافی مشاہدات اور اہم فیصلوں سے متعلق انہیں مسلسل اندھیرے میں رکھنے کے واقعات کم خوفناک نہیں ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے عمل‘ 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف ہوجانے اور چیف الیکشن کمشنر کے آمرانہ رویہ پر سپریم کورٹ کے متزلزل رویہ نے صورتحال کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔
جمہوریت کی بقا اور اس کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری انہی دونوں آئینی اداروں پر ہے۔ لیکن اب ان اداروں کی قیادتوں کی روش کے سبب ان اداروں کا اعتماد اور وقار شدید خطرات سے دوچار ہے۔ پچھلے ایک ہفتہ میں جو کچھ سامنے آیا ہے اس نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ دونوں کا رہا سہا اعتماد اور وقار بھی ملیا میٹ کردیا ہے۔ ڈنڈے کے زور پر شہریوں کے دلوں میں آئینی اداروں کے احترام کا جذبہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔ جن کروڑوں ہندوستانیوں کے ذہن میں یہ بات پیوست ہوگئی ہے کہ مذکورہ دونوں آئینی اداروں کے وقار کو ان کے سربراہوں نے ملیا میٹ کردیا ہےاور جن 13 کروڑ ہندوستانی شہریوں کے ووٹ دینے کے حق کو بیک جنبش قلم ختم کردیا گیا ہے ان کے دلوں میں کیسے ان دونوں اداروں کی عظمت بٹھائی جاسکتی ہے؟
انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی 23 ستمبر 2026 کی صفحہ اول کی اسٹوری نے اس وقت پورے ملک کی سیاست کو اتھل پتھل کر رکھا ہے۔ اس رپورٹ نے ہندوستان کے کم سے کم تین آئینی اداروں‘ الیکشن کمیشن‘ سپریم کورٹ اور حکومت ہند کے ایک ایسے مثلث کے چہرہ پر سے پردہ ہٹایا ہے جسے دیکھ کر ملک حیران رہ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن ہندوستان کا سب سے زیادہ حساس ادارہ ہے۔ اس کی پہلی ذمہ داری انتہائی درجہ میں غیر جانبدار اور صاف شفاف رہنے کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی یہ صفت مجموعی طور پر پچھلی ایک دہائی میں بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ متحرک شہریوں اور متعدد عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں الیکشن کمیشن کے طرز عمل کے خلاف مقدمات بھی قائم کر رکھے ہیں۔
یہ بات پہلی بار منظر عام پر آئی ہے کہ تین رکنی الیکشن کمیشن میں تمام بڑے اور حساس فیصلے یکطرفہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کے ذریعہ ہی کئے جارہے ہیں اور باقی دو الیکشن کمشنروں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 23 ستمبر کو انڈین ایکسپریس کی خاتون صحافی ’ریتکا چوپڑا‘ نے انکشاف کیا کہ ’’پچھلے دس مہینوں میں دو الیکشن کمشنروں سکھ بیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 14 مرتبہ ریکارڈ پر اپنا اعتراض درج کیا‘‘۔ انہوں نے مختلف بڑے فیصلوں کے تعلق سے خود کو اندھیرے میں رکھنے’ نئے ووٹرس کا نام شامل کرنے اور پرانے ووٹرس کے نام حذف کرنے جیسے امور پر نہ صرف سخت ناگواری ظاہر کی بلکہ ریکارڈ پر لکھی بھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پچھلے دس مہینوں میں ہندوستان بھر میں الیکشن کمیشن نے جو کچھ کیا وہ صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی ہی خواہش کے مطابق کیا اور اس میں باقی دو الیکشن کمشنروں کی منظوری اور مرضی شامل نہیں تھی۔۔۔
انڈین ایکسپریس کی مسلسل تین دنوں کی رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ دستورکی دفعہ 324 کے تحت قائم ہونے والے آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن نے انتہائی اہم فیصلے آزاد اور خود مختار ہوکر نہیں کئے۔ یہاں تک کہ تین رکنی کمیشن کے بنیادی تقاضہ کے تحت اتفاق رائے کے لازمی اصول کو بھی پائوں تلے روند دیا گیا۔ مثالی تقاضہ تو یہ ہے کہ تمام فیصلے تینوں ممبران کی متفقہ رائے سے ہونے چاہئیں لیکن اگر کسی نکتہ پر اختلاف بھی ہو تو دو ممبران کا متفق ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر متعدد بڑے فیصلوں پر دو ممبران کی رائے نہ لی جائے اور یکطرفہ طور پر چیف الیکشن کمشنر ہی فیصلے کرتا رہے تو یہ آئین کی روح کے خلاف ہے اور یہ آمریت کی انتہائی بدترین شکل ہے۔
اس اعتبار سے چیف الیکشن کمشنر نے جو بھی کیا غیر قانونی کیا اور اس کے نتیجہ میں جتنے بھی الیکشن ہوئے وہ سب غیر قانونی ہوئے۔ اسی لئے اپوزیشن اور کاکروچ جنتا پارٹی کے علاوہ رضاکار تنظیمیں اور بہت سے ماہرین بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں ہونے والے تمام انتخابات کو ملتوی کیا جائے اور پرانی ووٹر لسٹ کے مطابق ہی الیکشن کرائے جائیں۔ نئے ووٹروں کے ناموں کی شمولیت اور پرانے ووٹروں کے ناموں کا حذف ہونا براہ راست اس ملک کے عام شہریوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایس آئی آر کے تحت پورے ملک میں جو افراتفری مچائی گئی اس سے 13 کروڑ ہندوستانی شہری متاثر ہوئے۔ کیا یہ تعداد کچھ کم ہے؟
انڈین ایکسپریس نے اس خوفناک تحقیقاتی رپورٹ کو حصہ اول کے طور پر شائع کیا ہے۔ چاردن سے مسلسل اسی کی توسیعی خبریں اور رپورٹیں شائع ہورہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تحقیقات کے کشکول میں بہت کچھ باقی ہے۔ الیکشن کمیشن نے فارم نمبر 6 میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق متعلقہ دو کمشنروں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا کرنا غیر قانونی ہے اور الیکشن کمیشن کو اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ‘ ایسا کرنا اس ملک کے نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ رپورٹ میں کروڑوں ووٹروں کے ’ڈیٹا بیس‘ یعنی ان کی شخصی معلومات کے غیر محفوظ ہونے کا سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔
اصول یہ ہے کہ مقامی طور پر بی ایل او کی فراہم کردہ معلومات اور اس کی سفارشات پر یقین کیا جاتا ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ پورے ملک میں کسی ایک ووٹر کے سلسلہ میں کسی بھی بی ایل او یا ای آر او کا کوئی اختیار نہیں رہ گیا ہے اور ہر معاملہ میں دہلی کے کمیشن کے مرکزی دفترمیں بیٹھی ہوئی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی خاتون ڈائریکٹر کے پاس ہی کسی کو شامل کرنے یا کسی کا نام حذف کرنے کا بٹن ہے۔ اس طرح کے متعدد معاملات سامنے آئے ہیں کہ جہاں بی ایل اور اور ای آر او کی سفارش اور رپورٹ کے باوجود ووٹروں کے نام حذف کردئے گئے۔ اس رپورٹ کی جزئیات اتنی تفصیلی ہیں کہ ان کے تمام پہلوئوں پر بات کرنے کیلئے ایک ضخیم کتاب بھی کم پڑ جائے۔
الیکشن کمیشن کے تعلق سے جاری مذکورہ رپورٹ کو آج چار دن ہوگئے ہیں لیکن اس سلسلہ میں چیف الیکشن کمشنر نے نہ کوئی پریس کانفرنس کی ہے اورنہ ان کی کوئی جامع اور مسکت وضاحت آئی ہے۔ اسی طرح خود دونوں غیر مطمئن کمشنروں نے بھی انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ کی کوئی تردید نہیں کی ہے۔ جو بھی وضاحت آئی ہے وہ انتہائی ناکافی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کم سے کم دس مہینوں سے پورے ملک کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں ایک جمہوری ملک میں متاثرہ عوام کے پاس کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ عدلیہ کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس وقت بھی ملک کی مختلف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں متعدد عرضیاں زیر غور ہیں۔
سب سے اہم بہار اور بنگال میں ایس آئی آر کا معاملہ ہے۔ بہار میں پہلے 65 لاکھ ووٹروں کو باہر کیا گیا اور پھر تین لاکھ سے زائد ووٹروں کو نااہل قرار دیدیا گیا۔ بنگال میں تو صورتحال اور بھی خراب تھی جہاں 90 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کردئے گئے۔ سیاسی جماعتوں اور دیگر متحرک سماجی تنظیموں نے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن لمبی لمبی ڈھیروں سماعتوں کے باوجود سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے بعض انتہائی پر اسرار قسم کے اقدامات کو یہ کہہ کر جاری رہنے دیا کہ الیکشن یا ایس آئی آرکا عمل شروع ہونے کے بعد کوئی مداخلت نہیں کی جاسکتی لیکن جب خود الیکشن کمیشن نے الیکشن کا عمل شروع ہونے کے بعد ممتا بنرجی سے ان کی پارٹی کا نام اور سمبل چھین لیا تو اس پر یہ قانون اور اصول لاگو نہیں کیا گیا۔ تنظیمیں‘ وکلا اورمتاثرہ ووٹرس چیختے رہے لیکن عدلیہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن سے متعلق جتنے بھی معاملات زیر سماعت آئے تقریباً سبھی میں متاثرین کو کوئی راحت نہیں ملی اور الیکشن کمیشن کی ہی بالادستی کو قبول کیا گیا۔ لیکن اب جبکہ یہ سامنے آچکا ہے کہ بیشتر اہم معاملات میں الیکشن کمیشن میں اتفاق رائے تھا ہی نہیں تو یہ ذمہ داری بھی سپریم کورٹ کی ہی ہے کہ وہ اس کا سخت نوٹس لے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ابھی عدلیہ تک یہ پیغام پہنچا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر نوئیڈا کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کا معاملہ لیا جاسکتا ہے جن کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کے سخت تبصروں اور احکامات پر سپریم کورٹ کی ایک دو رکنی بنچ نے ’اسٹے‘ لگا دیا۔ لائیو لا کی قلم کار گورسمرن کور نے لکھا کہ سپریم کورٹ کے 13 جولائی کے روسٹر کے مطابق اس طرح کے مقدمات کی صرف چار بنچیں سماعت کرسکتی ہیں۔ لیکن مذکورہ معاملہ کو جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ کو بھیجا گیا جبکہ روسٹر کے مطابق یہ ان کا موضوع نہیں تھا۔
جسٹس شرما اس دورکنی بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے الیکشن کمشنر کی تقرری کے نئے قانون کے خلاف سماعت کی تھی اور جسے جسٹس شرما کے اختلافی فیصلہ کی وجہ سے آئینی بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا۔ بعد میں لائیو لاکے منو سیباسٹین نے لکھا کہ جسٹس شرما کا بیٹا مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کا اسٹینڈنگ کونسل ہے لہذا اس حقیقت کے پیش نظرجسٹس شرما کے فیصلہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہاں اس واقعہ کا ذکر ضروری ہے کہ نوئیڈا کی ضلع مجسٹریٹ میدھام روپم کے خلاف فیصلہ دینے والے جج جسٹس اتل سری دھرن نے ہی کرنل صوفیہ قریشی کو دہشت گردوں کی بہن کہنے والے مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ایک طرف جہاں ان کا تبادلہ کردیا گیا وہیں سپریم کورٹ نے ان کے موخر الذکر فیصلہ پر روک بھی لگادی۔
بہرحال سپریم کورٹ کو سوچنا چاہئے کہ جن 13 کروڑ لوگوں کو غیرآئینی طور پر ووٹر لسٹ سے باہر کردیا گیا اب ان کا کیا ہوگا۔ پہلے ہی مختلف بہانوں سے کتنے ہی لوگوں کو بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا۔ سپریم کورٹ کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جب ویب سائٹ کا پورا کنٹرول دہلی میں الیکشن کمیشن میں بیٹھنے والی ایک خاتون کے ہی ہاتھ میں دےدیا گیا ہے اور وہ ہزاروں بی ایل او جو عملی طور پر ان کروڑوں لوگوں کے ناموں اور دیگر تفصیلات سے باخبر ہیں اس عمل سے باہر کردئے گئے ہیں تو پھر اس ایس آئی آر کی کیا معتبریت باقی رہ گئی ہے؟
سپریم کورٹ کو اب جسٹس اتل سری دھرن کے ’اور ویلین ڈسٹوپیا‘ کے انتباہ پر بھی غور کرنا چاہئے جو انہوں نے میدھا روپم کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے دیا تھا۔ اور ویلین ڈسٹوپیا اس معاشرہ سے عبارت ہے جو محض ایک جابر حکمران کے سبب بدامنی اور افراتفری کا شکار تھا۔
سپریم کورٹ اس ملک کے متاثرہ اور مظلوم طبقات کی آخری امیدگاہ ہے۔ اگر اس کے تعلق سے شہریوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ انصاف وہاں سے بھی نہیں ملے گا تو یہ صورتحال تو اس تصور سے کہیں زیادہ خراب اور تشویشناک ہے جو اس ملک کا ایک عام شہری کرسکتا ہے۔





