جنتَر منتر پولیس ایکشن پر اپوزیشن کا ہنگامہ، امیت شاہ سے جواب طلب
جنتَر منتر پولیس کارروائی پر اپوزیشن کا ہنگامہ، امیت شاہ سے جواب کا مطالبہ، اکھلیش یادو نے حکومت پر شدید سوالات اٹھائے۔
نئی دہلی: جنتَر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کا معاملہ ایک بار پھر پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آگیا۔ بدھ کے روز اپوزیشن ارکان نے لوک سبھا میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ خود ایوان میں اس معاملے پر اپنا موقف واضح کریں اور احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تفصیل سے جواب دیں۔اپوزیشن کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد ایوان کا ماحول بھی گرم ہوگیا۔ ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنتَر منتر پر مظاہرین کے ساتھ پولیس کے رویے اور کارروائی کے حوالے سے وضاحت پیش کی جائے۔ اس دوران ایوان کی کارروائی کو دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
پارلیمنٹ کے باہر جب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی شروع سے ہی چاہتی ہے کہ اہم معاملات پر دونوں فریقوں کو اپنا موقف رکھنے کا موقع ملے۔ ان کے مطابق ملک میں مذہبی اداروں سے متعلق معاملات اور تعلیمی امتحانات سے جڑے مسائل دونوں ہی اہم ہیں اور ان پر پارلیمنٹ میں کھلی بحث ہونی چاہیے۔اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی امتحانات اور مذہبی اداروں سے متعلق جن معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، ان میں ایک خاص طرز کے لوگوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کا مؤقف ابتدا ہی سے یہی رہا ہے کہ ان دونوں معاملات پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے، تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امتحانات اور مذہبی اداروں سے متعلق جن الزامات کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ان موضوعات پر بحث سے گریز کر رہی ہے، کیونکہ اس کے پاس اپوزیشن کے سوالات کا مناسب جواب نہیں ہے۔سماج وادی پارٹی سربراہ نے رام مندر چندہ معاملے سے متعلق ایس آئی ٹی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں کئی افراد کے نام سامنے آئے ہیں اور ان میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں حکومت یا بی جے پی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو نے اسی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ شاید حکومت اس معاملے پر بھی پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث سے بچنا چاہتی ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ عوامی مسائل پر جواب دہی کا سب سے اہم فورم ہے، اس لیے احتجاج، پولیس کارروائی، تعلیمی امتحانات اور مذہبی اداروں سے متعلق اٹھنے والے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی جواب سامنے آنا ابھی باقی ہے۔






