خبرنامہ

امیت شاہ کی مسلسل غیرحاضری پر جے رام رمیش نے اٹھائے بڑے سوال

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی پارلیمنٹ سے مسلسل غیرحاضری ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ منگل کے روز بھی امیت شاہ لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں نظر نہیں آئے، جس پر کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے حکومت اور وزیر داخلہ پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مختلف خبروں کے ذریعے توجہ دوسری جانب منتقل کرنے اور سیاسی بیانیہ تبدیل کرنے کی کوششوں کے باوجود وزیر داخلہ منگل کو بھی لوک سبھا میں موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق ایوان کے کام کاج میں امیت شاہ کے نام سے امور پہلے ہی درج تھے، لیکن اس کے باوجود وہ کارروائی میں شریک نہیں ہوئے۔

کانگریس رہنما نے امیت شاہ کی مسلسل غیرحاضری کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 17 دنوں سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا، دونوں ایوانوں سے دور ہیں۔ جے رام رمیش نے اسی بنیاد پر وزیر داخلہ کی صحت اور حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں کے درمیان تعلقات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر امیت شاہ مسلسل پارلیمنٹ سے غیر حاضر کیوں ہیں اور کیا ان کی صحت ٹھیک ہے۔یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں گزشتہ ماہ دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر وزیر داخلہ سے وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ احتجاج میں سی جے پی (کاکروچ جنتا پارٹی) کے حامیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں نوجوان بھی شریک ہوئے تھے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کے معاملے میں حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے واضح جواب دینا چاہیے۔
دوسری جانب پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے پیر کے روز کہا تھا کہ امیت شاہ ایوان میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپوزیشن کو ان کا جواب تحمل اور سکون کے ساتھ سننا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب اپوزیشن مسلسل وزیر داخلہ کی وضاحت کا مطالبہ کر رہی تھی۔اسی معاملے پر کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی پیر کی شام پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امیت شاہ اگر اب ایوان میں بولنے کے لیے تیار ہیں تو اپوزیشن کو محض دعووں یا سیاسی بیانات میں دلچسپی نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ پہلے یہ واضح کریں کہ احتجاج کے دوران نوجوانوں کے خلاف فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی یا نہیں۔ ان کے مطابق اس سوال کا واضح جواب ملنے کے بعد ہی معاملے پر مزید بحث کی جا سکتی ہے۔


یوں امیت شاہ کی مسلسل پارلیمانی غیرحاضری اور احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ اپوزیشن وزیر داخلہ سے براہِ راست جواب چاہتی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایوان میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر