خبرنامہ

جنگ میں ادویات کا بحران، ایران نے بھارت پر بڑا دعویٰ کردیا

تہران۔ ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے ایران کو ادویات کی تیاری کے لیے درکار خام مال کی ایک بھی کھیپ فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ایران کو ادویات اور طبی ضروریات کی فراہمی کے معاملے میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ایرانی وزیرِ صحت نے کہا کہ بھارت نے ایران کو ادویات کی فراہمی کے لیے بعض شرائط عائد کی تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر یہ شرط رکھی گئی تھی کہ آبنائے ہرمز کے راستے اس کے بعض بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔محمد رضا ظفرقندی نے یہ بات ایک اہم اجلاس کے دوران کہی، جس میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔ اجلاس ایران کی وزارتِ صحت میں منعقد ہوا، جس میں جنگ کے نتیجے میں متاثر ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور ملک کو درپیش طبی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران حکومت کے لیے مشکل ترین امور میں سے ایک ملک کے صحت کے شعبے کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ ان کے مطابق جنگی حالات میں ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی اور انہیں ملک کے اندر پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔عباس عراقچی نے اس موقع پر صحت کے شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والے حالات نے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر رابطے اور تعاون کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اجلاس کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران نقصان پہنچنے والے صحت کے مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے سفارتی اداروں اور وزارتِ صحت کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے بعد بحالی کے عمل میں طبی شعبے کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنا ضروری ہے۔ایرانی وزیرِ صحت کے بیان میں بھارت کی جانب سے خام مال کی فراہمی نہ کیے جانے اور مبینہ شرائط کا ذکر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگی حالات نے تجارت، نقل و حمل اور طبی سامان کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ ایران کے لیے ادویات کی مسلسل دستیابی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جنگی صورتحال میں طبی مراکز پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ادویات اور طبی آلات کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔لیکن بھارتی حکومت یا متعلقہ بھارتی اداروں کی جانب سے ایرانی وزیرِ صحت کے ان دعوؤں پر کوئی ردِعمل یا وضاحت سامنے آنے کی صورت میں اس کا مؤقف بھی خبر کا اہم حصہ ہوگا۔ فی الحال یہ بات ایرانی وزیرِ صحت کے بیان اور ایرانی ذرائع سے منسوب اطلاعات کی بنیاد پر سامنے آئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے بعد ملک کے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ صحت کے نظام کو دوبارہ مستحکم کرنا بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے سفارتی ذرائع، بین الاقوامی روابط اور داخلی اداروں کے درمیان تعاون کو مؤثر بنانے کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر