طلبہ احتجاج پر پولیس ایکشن کے خلاف راہل گاندھی کا سخت مؤقف
راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کو نامناسب قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کانگریس ایسی کارروائی کی حمایت نہیں کرتی۔پیر کی شام کانگریس پارٹی کی جانب سے ایک خصوصی پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس دوران صحافیوں نے راہل گاندھی سے جھارکھنڈ میں جاری طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی کے حوالے سے سوال کیا۔ جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جھارکھنڈ کے طلبہ کے لیے ان کا پیغام واضح ہے کہ جو طلبہ پرامن انداز میں احتجاج کر رہے ہیں، ان کے خلاف کسی بھی قسم کی طاقت یا تشدد کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں اگر پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد کیا جاتا ہے تو وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جمہوری نظام میں لوگوں کو اپنے مسائل اور مطالبات حکومت کے سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے، اس لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کیا جانا چاہیے۔اس سے پہلے راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی جھارکھنڈ کے معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔
راہل گاندھی نے جھارکھنڈ حکومت سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کی بات سنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مطالبات پر فوری توجہ دیتے ہوئے ان کے مسائل کا مناسب حل تلاش کیا جائے۔واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی قیادت والی حکومت میں کانگریس بھی اتحادی جماعت ہے۔ 81 رکنی جھارکھنڈ اسمبلی میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے 34 اور کانگریس کے 16 ارکان اسمبلی ہیں۔ ایسے میں ریاست میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر راہل گاندھی کا بیان سیاسی اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔






