حراست کے 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیشی لازمی
سپریم کورٹ کا حکم، حراست میں لینے کے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیشی لازمی، خلاف ورزی پر فوری رہائی ہوگی۔
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا آئینی تقاضا ہے۔ اس مدت کا تعین پولیس کی جانب سے گرفتاری کو سرکاری طور پر درج کرنے کی تاریخ سے نہیں، بلکہ اس لمحے سے کیا جائے گا جب متعلقہ شخص کو پہلی مرتبہ حراست میں لیا گیا ہو۔بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس اُجّل بھوئیاں اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ اگر کسی شخص کو حراست میں لینے کے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا تو اس کی حراست غیر قانونی تصور ہوگی اور اسے فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔
عدالت کے سامنے یہ معاملہ ایک ایسے شخص کی درخواست کے ذریعے آیا تھا جس پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، متعلقہ شخص کو 29 ستمبر 2025 کی دوپہر حراست میں لیا گیا تھا، تاہم تفتیشی ایجنسی نے اس کی باقاعدہ گرفتاری 30 ستمبر کو درج کی۔ اس طرح حراست میں لیے جانے اور گرفتاری کے سرکاری اندراج کے درمیان تقریباً ایک دن کا فرق تھا۔
ملزم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ تفتیشی ایجنسی نے گرفتاری درج کرنے میں تاخیر محض اس لیے کی تاکہ آئین میں دی گئی 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی ضمانت سے بچا جا سکے۔ اس کے برعکس، تفتیشی ایجنسی کا کہنا تھا کہ قانونی مدت کا آغاز 30 ستمبر سے ہونا چاہیے، کیونکہ اسی روز گرفتاری کا باقاعدہ اندراج کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے تفتیشی ایجنسی کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا اور قرار دیا کہ کسی شخص کی آزادی سے متعلق آئینی تحفظات کو محض کاغذی کارروائی کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق، پولیس کسی فرد کو پہلے اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کرتی رہے اور پھر اپنی سہولت کے مطابق بعد میں گرفتاری درج کرے، تو اس طریقے کو قانونی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔بنچ نے واضح کیا کہ 24 گھنٹے کی مدت کا حساب حراست کے حقیقی وقت سے ہوگا، نہ کہ پولیس کے ریکارڈ میں درج گرفتاری کے وقت سے۔ اس وضاحت کا بنیادی مقصد شہریوں کی شخصی آزادی کا تحفظ اور پولیس کی جانب سے غیر معینہ مدت تک غیر اعلانیہ حراست کے امکانات کو روکنا ہے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں یہ بھی واضح کیا کہ کسی شخص کو تفتیش کے نام پر حراست میں رکھنا، لیکن اس کی گرفتاری کا باضابطہ اندراج نہ کرنا، آئین کے منافی ہے۔ اس فیصلے سے تفتیشی اداروں کے لیے یہ اصول مزید واضح ہوگیا ہے کہ قانونی کارروائی میں تاخیر یا ریکارڈ کی تبدیلی کے ذریعے کسی شہری کے بنیادی حقوق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔






