عقل کے اندھوں کا فرمان
ابھے شکلا
گیانیش کمار اور ان کی مشتبہ حرکتوں کے دفاع میں 124 سابق نوکرشاہوں کی جانب سے جاری کردہ کھلا خط پڑھ کر مجھے مورس سوئٹزر کا وہ مشہور خیال یاد آ گیا کہ ’’خاموش رہ کر احمق سمجھا جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ منھ کھولیں اور باقی ماندہ شبہات کو بھی دور کر دیں۔‘‘
حالاں کہ اس خط سے مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی، کیوں کہ میرے اپنے واٹس ایپ گروپس میں ایسے نوکرشاہوں کی اچھی خاصی تعداد ہے، جو اندر سے مودی جی کے قبیلے کے ہی حامی ہیں۔ مجھے جس بات نے واقعی حیران کیا، وہ یہ تھی کہ کم از کم اس بار انہوں نے منھ کھولنے کی زحمت تو اٹھائی۔ مانا کہ وہ تاریخ کے غلط خیمے میں کھڑے ہو کر بولے، لیکن اپنے بلوں سے باہر تو نکلے! ایسے لوگ عام طور پر پس منظر کے محفوظ حصار میں دبکے رہنے اور دونوں طرف اپنی گوٹیاں بٹھائے رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔
وہ کبھی بہتی کشتی کو نہیں ہلاتے، کبھی کوئی واضح موقف اختیار نہیں کرتے، ہمیشہ طلوع ہوتے سورج کی پوجا کرتے ہیں اور انھیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی روٹی پر گھی کس طرف سے لگایا گیا ہے۔ مجھے پختہ شبہ ہے کہ مودی جی کے شاطر مشیروں نے ہی انہیں اس پر رضامندی ظاہر کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا۔ کچھ رعایتوں، عہدوں اور چارج شیٹوں کے لین دین کی بات ہوئی ہوگی، تاکہ وہ طے شدہ جگہ پر دستخط کر دیں (اور یہ ان کے لیے کوئی مشکل کام بھی نہیں تھا، کیونکہ اپنے پورے کیریئر میں وہ یہی تو کرتے آئے ہیں)۔
اس خط پر دستخط کرنے والوں کے بارے میں کچھ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ ان میں سے بیشتر ایسے گمنام چہرے ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا، اور ایسا ہونا لازمی بھی ہے، کیونکہ ان کے چہروں پر کالک پُتی ہوئی ہے۔ ایک آدھ پر غبن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں؛ ایک صاحب کچھ عرصہ پہلے ایک خواتین کالج کے پروگرام میں اپنی تنگ نظری اور خواتین مخالف سوچ کا کھلے عام مظاہرہ کر چکے ہیں؛ ایک دیگر صاحب، جو اب ایک مرکزی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں، طویل عرصے سے بی جے پی کے اندھے عقیدت مند رہے ہیں؛ کچھ لوگ وویکانند فاؤنڈیشن اور او آر جی جیسی دائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں؛ اور ان میں ایک صاحب ایسے بھی ہیں جو عوامی طور پر اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے سیاسی دباؤ میں آکر انتظامی احکامات جاری کیے تھے! یہ ایسے ’سماجی طور پر باشعور‘ شہری بالکل نہیں ہیں جن پر اس حکومت اور الیکشن کمیشن جیسی اس کی کٹھ پتلیوں کی کارگزاریوں کے بارے میں غیر جانبدارانہ رائے رکھنے کا بھروسا کیا جا سکے۔ سیدھے الفاظ میں کہیں تو ان کی ساکھ پوری طرح مشتبہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں ترنمول کانگریس کی شکست کے بعد اس کے 27 لوک سبھا اراکین میں سے 20 نے پارٹی چھوڑ دی تھی۔ کئی دنوں تک بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں اور ’دَل بدل قانون‘ کے نفاذ سے متعلق بحث کے بعد ان تمام ارکین نے این سی پی آئی نامی ایسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کا کوئی رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ نہیں تھا۔ ان اراکین پارلیمنٹ نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو حمایت دی تھی۔






