سیاسی بصیرت

جنگی مجرم نیتن یاہو اقتدار سے چمٹے رہنے کے خواہاں

روش کمار

اسرائیل کے انتخابات میں نیتن یاہو اور ان کے حریف آئزن کوٹ میں سے کسی کو بھی اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ 120 نشستوں میں سے نیتن یاہو کی پارٹی کو 52 اور آئزن کی پارٹی یا اتحاد کو 48 نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ عرب ۔ اسرائیل جماعتوں کو بادشاہ گر کا موقف حاصل ہوا۔ جہاں تک نیتن یاہو کا سوال ہے ان کی حکومت میں دنیا بھر کی حکومتوں کو پیگاسیس فروخت کیا گیا تاکہ وہاں اپوزیشن کے لیڈروں، صحافیوں اور حقوق انسانی کے جہدکاروں کی باتوں کو سنا جاسکے۔ بیڈ روم سے لے کر باتھ روم تک نظر رکھی جاسکے۔ وہی نیتن یاہو گلا پھاڑ کر رو رہے ہیں کہ بیرونی سازش کے تحت انھیں کمزور کیا جارہا ہے۔ اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی تقریباً پوری ہوچکی ہے لیکن ابھی نیتن یاہو نے شکست قبول نہیں کی ہے اُلٹے نیتن یاہو اور ان کی پارٹی لیکوڈ بیرونی طاقتوں پر الزام عائد کررہے ہیں کہ عرب رائے دہندوں کو متحد کرنے میں بیرونی فنڈنگ کی گئی۔ نیتن یاہو 2009ء سے تقریباً لگاتار عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہے۔ اپنی شبیہ مضبوط لیڈر کے سانچہ میں فٹ کرتا ہے اور اتحاد کو 10 نشستیں کم کیا آئی بیرونی سازش کا رونا رونے لگ جاتا ہے۔ پولیس اور پیگاسیس کے دم پر اقتدار پر کنٹرول کرنے والے سارے طاقتور و بااثر لیڈروں کی یہی حالت ہے اور یہی حالت ہوگی یہ بھی نیتن یاہو کی ہار ہے کہ ان کی ناک کے نیچے بیرونی فنڈ انتخابات میں لگ رہا تھا اور انھیں تب پتہ چلا جب عرب پارٹی کے ارکان کی تعداد بڑھ گئی اور ان کے اتحاد کے ارکان کی تعداد گھٹ گئی۔ ایران میں علی لاری جانی کس کمرہ میں سوتے ہیں، اس کمرہ پر میزائیل سے حملہ کرنے کی ٹیکنالوجی جانکاری اسرائیل کے پاس تھی اپنے ہی ملک میں کسی دوسرے ملک کی دولت بہہ رہی ہے اس کا پتہ نہیں چلا۔ اسرائیل کے اخبار ہارٹز کی صفحہ اول پر ایک سرخی شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ اقتدار کی منتقلی روکنے وزیراعظم پھر سے پرانے بیانات دہرانے لگے ہیں۔ کسی بھی حال میں نیتن یاہو اقتدار نہیں چھوڑیں گے اس بار اقتدار کی منتقلی نہیں ہوگی اس کی تیاری 4 جنوری 2023ء کو ہی کرلی تھی۔ جب قانونی سدھار کے نام پر سپریم کورٹ کے اختیارات کم کردیئے گئے۔ اکثریت نہیں ملی تو پرانا راگ الاپ رہے ہیں کہ عربوں کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کو جو تبدیلی چاہتی تھی اکثریت نہیں ملی ہے بیرونی سازش ہوگئی کمیونسٹ ہے، Islamization ہورہا ہے۔ سافٹ ویر سے چھیڑ چھاڑ کی گئی، ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔ اسرائیل کے انتخابات کے بارے میں ہم بات کررہے ہیں۔ اسرائیل کے بارے میں دانشور و مفکرین بے جھجھک کہتے ہیں وہ بھی بار بار کہ اقتدار بدل جائے مگر اسرائیل کا کردار نہیں بدل سکتا جو بھی اقتدار میں آئے گا فلسطین کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے گا۔ بھلے نیتن یاہو نے یا اسرائیل کی سیاست نے اپنی عوام کو نفرتی زہر میں جھونک دیا ہو نسل پرستی میں لپیٹ دیا ہو لیکن اس سے اسرائیل کو اپنے ملک کے بارے میں کیا ملا بھلے ہی یوروپی ملکوں کے وزرائے اعظم اور صدور غزہ کو لے کر چپ رہے نیتن یاہو کا ساتھ دیتے رہے مگر اب ان ملکوں میں بھی فلسطین کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ غزہ میں قتل عام کی بات کی جارہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بھی دکھاوا ہو مگر دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر اُترے لوگوں کے احتجاجی مظاہروں کو آپ کسی بھی طرح دکھاوا نہیں کہہ سکتے۔ کروڑوں روپئے کے درمیان اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی شبیہ جنگی مجرم کی ہوگئی ہے۔ قتل کرنے والے لیڈر کی ہوگئی ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد میں یہودی بھی شامل ہوئے ہیں۔ بھلے اقوام متحدہ کی کسی رپورٹ کا کہیں اثر نہ ہو مگر ان رپورٹ میں نیتن یاہو کو قتل عام کرنے والا اور جنگی مجرم کہا گیا ہے۔ یہ رائے صرف متحدہ کی کچھ ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹس کی نہیں دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی ہے۔ اسرائیل میں حکومت بدل جائے وہاں کی سیاست نہیں بدلتی۔ دنیا کے عوام اسرائیل کو لے کر بدلنے لگی ہے وہ اب اسرائیل کو حیرانی کی نظر سے نہیں دیکھتی۔ ہمدردی کی نظر سے نہیں دیکھتی بلکہ اس عوام کو دکھائی دینے لگا ہے کہ نیتن یاہو جسے نیتن کی سوچ کا غزہ ہی نہیں دنیا بھر کے عوام کے لئے کیا مطلب ہے۔ اکثریت سے محروم ہونے کے بعد بھی نیتن یاہو کی پارٹی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن اس کا جواب کوئی نہیں دے رہا ہے کہ اگر غزہ کو مٹادینا ہی اسرائیل کے عوام کی سمجھ ہے حدف ہے تب 3 سال تک بمباری اور لاکھوں گھروں کو مٹادینے کے بعد بھی ہزاروں لوگوں کو شہید کرنے کے باوجود بھی نیتن یاہو کی اکثریت دو تہائی سے زائد کیوں نہیں ملی۔ نیتن یاہو کے ہاتھوں قتل عام میں ایسی کونسی کمی رہ گئی کہ اس کام کے لئے اسرائیل کے عوام اپوزیشن کی طرف موڑ گئی۔ کسی بھی وجہ سے رہی ہو نیتن یاہو کے خلاف ناراضگی بھی ہوگئی کہ اسرائیل کے عوام نے نیتن یاہو کی پالیسیوں سے اپنی دوری بنالی ہے اسی لئے اس بات کو مسترد کئے بناء کہ اسرائیل کا کردار نہیں بدلتا ہے یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ اسی اسرائیل کے بہت سے لوگ غزہ پر ہونے والی بمباری کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو اتفاق سے یہودی بھی ہیں۔ اختلاف رائے یا مخالفت کی آوازوں کو درج کئے بناء اکثریت کے شور میں ناچنے سے نظریہ صاف نہیں ہوتا ہے۔ اسرائیل کی ایک اداکارہ گولڈن برگ ایک اسرائیلی چیانل کے انٹرویو میں کہتی ہیں کہ مجھے اب اسرائیلی ہونے پر فخر نہیں ہوتا۔ مجھے یہ احساس بہت بُرا لگتا ہے، مجھے بہت شرم آتی ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں اس وقت جو بھی ہورہا ہے فلسطین پر قبضہ کی وجہ سے ہورہا ہے۔ مذہب کے نام پر زبردستی کی جارہی ہے۔ مغربی کنارہ میں فلسطینیوں کی زمین پر بسنے والے آبادکاروں کے تشدد، یہودی دہشت گردی اور غرور و تکبر کے چلتے اسرائیل کے اقلیتوں فلسطینیوں کو اپنی آزادی حاصل کے لئے لڑنے کا حق حاصل ہے۔ فلم اداکارہ یہ بات تب کہہ رہی تھیں جب انھیں لگا کہ کیمرہ بند ہے مگر کیمرہ آن تھا اور انٹرویو لائیو تھا۔ جب احساس ہوا کہ انٹرویو لائیو ہے تو اُنھوں نے فوراً انٹرویو ختم کیا، پھر سے کیمرے پر آئیں اور اپنے بیان کے لئے معذرت خواہی کی۔ ان کی یہ بات اب دنیا بھر میں وائرل ہوگئی ہے۔ اتنا کنٹرول اور ڈر قائم کرنے کے بعد بھی نیتن یاہو اکثریت حاصل نہیں کرسکے۔ جس چناؤ تک پہنچنے کے لئے تین سال پہلے سے وہ اسرائیل کو چوطرفہ جنگ میں جھونکے رہے امریکہ سے لے کر اپنے دوست ملکوں کو جنگ اور قتل عام کے اپنے گناہوں میں حصہ دار بنایا، نیتن یاہو کو لے کر اسرائیل میں کوئی لہر نہیں دکھائی دی۔ یہ ان کی بڑی ہار ہے باقی حلف لینے اور اقتدار میں بنے رہنے کے طریقے کس کے پاس نہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو اکثریت حاصل نہیں کرسکے یہ ایک خبر ہے۔ دوسری خبر ہے کہ اسرائیل میں عرب پارٹیوں نے شاندار مظاہرہ کیا۔ 4 سال قبل عرب پارٹیوں کے 10 ارکان پارلیمنٹ تھے اس بار ان کی تعداد بڑھ کر 19 ہوگئی۔ عرب پارٹی کوئی ایک پارٹی نہیں اس کے اندر بھی اتحاد ہے۔ پچھلی بار یہ تین حصوں میں بٹی تھیں اور ان میں سے دو ہی پارلیمنٹ پہنچ پائیں لیکن اس بار عرب پارٹیوں میں اتحاد دکھائی دے رہا ہے۔ تین سال سے عرب پارٹیوں کی کوئی چرچا آپ کو نہیں دکھائی دے رہی ہوگی مگر اب اچانک سے عرب پارٹی کے ووٹرس کے حق کی بات بھی ہونے لگی ہے۔ یہی اس چناؤ کی دین ہے جو دکھائی نہیں دے رہے تھے اب دکھائی دے رہے ہیں۔ عرب بادشاہ گر بن گئے ہیں۔ کیا یہ بڑی بات نہیں کہ اسرائیل کی پوری عوام کو فلسطین کے بارے میں ایک ہی عینک سے دیکھا جارہا ہے۔ اسی اسرائیل میں عرب جماعتیں اسی دور میں سب سے زیادہ تائید و حمایت حاصل کرتی ہیں فلسطین کے عزت نفس کی وکالت کرتی ہیں۔ غزہ پر حملے روکنے کی بات کرتی ہے۔ غزہ کو لے کر اسرائیل کی فوجی حکمت عملی اور حکومت کی مخالفت کرتی ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اسرائیل میں ان کے پاس پورے حقوق حاصل نہیں ہیں کچھ بھی نہیں ہونے کے بعد بھی عرب ووٹروں کا ایک اتحاد کی طرف موڑنا بہت کچھ کہہ رہا ہے۔ کم سے کم انھوں نے اپنے اتحاد سے نیتن یاہو کی یقینی جیت کو شکست میں بدل دیا۔ عرب رائے دہندوں کا بکھراؤ رُکنا متحد ہونا بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اسرائیل میں انھیں اقلیت مانا جاتا ہے اپنے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے یہودی شہریوں کے برابر حقوق مانگتے رہے ہیں۔ کیا یہ بات نہیں بتائی جانی چاہئے کہ جس اسرائیل کو لے کر غزہ کے بارے میں ایک موقف ایک رائے کا بتایا جارہا ہے اسی اسرائیل میں دوسری آوازیں بھی ہیں ٹھیک ہے ان کے پاس کوئی حق یا اختیار نہیں ہے کوئی ان کے ساتھ ملکر حکومت نہیں بنائے گا لیکن ہر دن ہونے والی بمباری کے درمیان عرب جماعتیں اسرائیل میں ایک الگ آواز بنی رہی۔ جمہوریت کی کس کتاب کے مطابق ان کی بات بے معنی مانی جائے۔ عربوں کا مظاہرہ کمزور کردیئے گئے طبقہ کے ایک جگہ متحد ہونے کی سیاسی حکمت عملی کی کامیابی کی بڑی مثال ہے۔ بہرحال نیتن یاہو کی پارٹی لیکوڈ اور آئزن کوٹ کی پارٹی یشار کی پالیسیوں میں بہت فرق ہے۔ عرب پارٹیوں نے خود کو مضبوط کرکے اسرائیل کی دونوں پارٹیوں کے اتحاد کو چیلنج کردیا ہے۔ وہاں بحث ہورہی ہے کہ ان کے بغیر حکومت نہیں بنے گی اور عرب پارٹیوں سے تائید و حمایت حاصل کرنے کا مطلب ہے اپنی عرب مخالف سیاست سے سمجھوتہ کرنا جس کے لیے نیتن یاہو تیار دکھائی دیتے ہیں نہ ہی ان کے مخالف آئزن کوٹ تیار نظر آتے ہیں جو بھی ان کی تائید حاصل کرے گا اسرائیل یعنی یہودیوں کی تائید و حمایت سے محروم ہوجائے گا۔ اس کی سیاست ختم ہوجائے گی اسی لیے تعطل بنا ہوا ہے۔ جس عرب کو غزہ میں مٹاکر اسرائیل اپنا سینہ تان رہا تھا وہی عرب اس کے اندر سینہ تان کر کھڑا ہوگیا ہے۔ حق اور اختیار بڑی چیز ہے مگر اس کے نہ ہونے پر بھی اپنی بات کہنے کی ہمت اور حوصلہ کسی بھی طرح سے کم نہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں