جنتر منتر پر پولیس کا بڑا ایکشن، سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل
جنتر منتر سے سونم وانگچک کو پولیس اسپتال لے گئی، احتجاجی تنظیم نے زبردستی کارروائی کا الزام لگایا، پولیس نے طبی ضرورت قرار دیا۔
دہلی کے جنتر منتر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے دوران ہفتہ کی صبح ایک ہائی وولٹیج ڈرامہ سامنے آیا، جب طویل بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن اور سماجی شخصیت سونم وانگچک کو زبردستی پولیس کی نگرانی میں صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ سونم وانگچک 28 جون سے مختلف مطالبات کے حق میں مسلسل انشن پر تھے اور ہفتہ کے روز ان کی بھوک ہڑتال اکیسویں دن میں داخل ہو چکی تھی۔
احتجاج کی حمایت کرنے والی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے صبح سویرے اچانک کارروائی کرتے ہوئے سونم وانگچک کو ان کی مرضی کے خلاف احتجاجی مقام سے ہٹا دیا۔ تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس دوران طلبہ اور دیگر مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا اور بعض افراد پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔تنظیم کے بانی ابھجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ وہ چند لمحوں کے لیے مقامِ احتجاج سے باہر گئے تھے، اسی دوران پولیس وہاں پہنچی اور سونم وانگچک کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئی۔ احتجاج میں شریک بعض افراد کا بھی کہنا ہے کہ صبح کے وقت چند اہلکار طبی ٹیم کے ہمراہ پہنچے، جس کے بعد انہیں شبہ ہوا کہ پولیس سونم وانگچک کو وہاں سے منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

دوسری جانب دہلی پولیس نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کارروائی عدالت کی ہدایات اور ماہر ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق کی گئی۔ نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث سونم وانگچک کی صحت تشویش ناک ہوتی جا رہی تھی، اس لیے انہیں ضروری طبی معائنے اور علاج کی غرض سے صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ ان کی جان کو لاحق ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
اس واقعے کے بعد جنتر منتر پر موجود مظاہرین میں بے چینی دیکھی گئی اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس کارروائی پر زبردست ردِعمل سامنے آرہا ہے۔ ایک جانب احتجاجی تنظیم پولیس پر سخت الزامات عائد کر رہی ہے، جب کہ دوسری جانب انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام صرف انسانی ہمدردی اور طبی ضرورت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا۔ اس معاملے نے ایک بار پھر احتجاج، عوامی حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔





