شندے کا بمبئی بیان پر بی جے پی رہنما کو سخت انتباہ
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اننام لائی کے بمبئی بیان کی سخت مخالفت کی اور شہر کی شناخت پر موقف واضح کیا۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اننام لائی کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے شہر بمبئی کے انتظام اور اس کے بجٹ کے حوالے سے اپنی رائے دی تھی۔ شندے نے کہا ہے کہ اننام لائی کا بیان درست نہیں تھا اور اس سے غیر ضروری سیاسی تنازع پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے بیانات شیو سینا کے موقف کے مطابق نہیں ہیں اور یہ پارٹی کے رویے کی عکاسی نہیں کرتے۔اننام لائی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مرکزی حکومت، مہاراشٹر حکومت اور برہمومبئی میٹروپولیٹن کارپوریشن کو بمبئی کے معاملات میں ایک ہی سوچ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، بمبئی صرف مہاراشٹر کا شہر نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی شہر ہے، جس کے بجٹ کا حجم تقریباً 75,000 کروڑ روپے ہے، جو چھوٹا نہیں ہے۔ انہوں نے دیگر شہروں کے بجٹ کے ساتھ اس کا موازنہ بھی کیا، بتایا کہ چنئی کا بجٹ تقریباً 8,000 کروڑ روپے اور بنگلور کا 19,000 کروڑ روپے ہے، اور اس بڑے بجٹ کے انتظام کے لیے مضبوط اور قابل انتظام عملے کی ضرورت ہے۔
اس بیان پر ایکناتھ شندے نے کہا کہ اننام لائی نے جو کچھ کہا، وہ بالکل درست نہیں تھا اور اسے اس انداز میں بیان نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ شندے نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر واضح طور پر بی جے پی کو آگاہ کر دیا ہے اور پارٹی اس پر غور کر رہی ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ شیو سینا کا موقف بمبئی اور مہاراشٹر کی شناخت کے حوالے سے انتہائی واضح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی شخص یا جماعت بمبئی کو مہاراشٹر سے الگ نہیں کر سکتی۔ شندے نے کہا، “بمبئی کوئی ریلوے کا ڈبہ نہیں ہے جسے کسی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ جوڑ دیا جائے۔ یہ شہر ہماری ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہے اور اس کی پہچان کا احترام کیا جانا چاہیے۔”یہ بیان شندے کی جانب سے مہاراشٹر میں شیو سینا کے موقف کی وضاحت کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں وہ مسلسل ریاستی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا کہ شہر کی ثقافتی اور مقامی شناخت کے معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ذمےدارانہ رائے سے گریز کرنا چاہیے۔ بمبئی، جو ملک کی مالیاتی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، شیو سینا کے مطابق مہاراشٹر کی پہچان کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس پر کسی قسم کے سیاسی یا انتظامی تنازع کی گنجائش نہیں ہے۔
اس تنازع کے تناظر میں شندے کا موقف واضح ہے کہ بمبئی کا انتظام اور اس کی پہچان مہاراشٹر کی ریاستی سیاست اور مقامی عوام کی ترجیحات کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے بجٹ اور انتظام کے امور میں مضبوط حکومتی عملے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی ثقافت اور شناخت کا بھی مکمل احترام ہونا ضروری ہے۔ شندے نے انتباہ کیا کہ کوئی بھی کوشش بمبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کی ناکام ہوگی کیونکہ اس شہر کی شناخت اس ریاست کی تاریخ اور ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔





