وجے کی فلم پر تنازع، راہل گاندھی کا حکومت پر بڑا الزام
راہل گاندھی نے وجے کی فلم پر پابندی کو تمل ثقافت پر حملہ قرار دیا، سی بی آئی نے بھگدڑ معاملے میں پوچھ گچھ کی۔
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تمل فلم انڈسٹری کے معروف اداکار وجے کی آنے والی فلم ’جن نائکن‘ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے اس اقدام کو تمل ثقافت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اطلاعات و نشریات کی وزارت کی جانب سے فلم ’جن نائکن‘ کو بلاک کرنے یا اس کی نمائش روکنے کی کوشش نہایت افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک فلم کا معاملہ نہیں بلکہ تمل عوام کی آواز اور ان کی ثقافتی شناخت کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کی آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ادھر اداکار وجے کی یہ فلم پونگل کے تہوار کے موقع پر ریلیز ہونے والی تھی، تاہم سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کو نمائش کی اجازت نہ دیے جانے کے بعد اس کی ریلیز مؤخر ہو گئی ہے۔ فلم کے سنسر سے متعلق فیصلے پر تمل ناڈو میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں کئی افراد اسے فنکارانہ آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اداکار وجے کو پیر کے روز دہلی میں واقع سی بی آئی کے ہیڈکوارٹر میں پیش ہونا پڑا، جہاں ان سے کرور میں پیش آئے بھگدڑ کے واقعے کے سلسلے میں تقریباً چھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اس بھگدڑ کا واقعہ وجے کے انتخابی مہم کے دوران پیش آیا تھا، جس میں 41 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔خبر رساں ایجنسیوں اے این آئی اور پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سی بی آئی اس معاملے میں مزید تفتیش کرنا چاہتی ہے۔ تاہم وجے نے تفتیشی ایجنسی کو آگاہ کیا ہے کہ پونگل کا تہوار قریب ہونے کی وجہ سے وہ کسی اور تاریخ کو دوبارہ پیش ہو سکتے ہیں۔ اسی بنا پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سی بی آئی انہیں آئندہ دنوں میں ایک بار پھر طلب کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کرور میں پیش آئے اس افسوسناک واقعے میں 41 افراد کی ہلاکت کے بعد معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ یہ پورا معاملہ اب نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے، جس پر ملک بھر میں نظریں جمی ہوئی ہیں۔





