فیس بُک کے الگورتھم کا غبار
وسیم احمد علیمی
تصوف کی درخشاں روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دل ایک آئینہ ہے، نہایت نازک اور عکس پذیر۔ الٰہی تجلیات کو اپنے اندر سمیٹنے کے لیے اس آئینے کو مستقل صیقل کرنے اور مانجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر موجودہ ڈیجیٹل عہد کا اصرار ہے کہ ہم اس آئینے کو روزانہ ہزاروں لایعنی اور عارضی تصویروں کے سامنے برہنہ کر دیں، جو ہماری باطنی بصارت کو دھندلا دیتی ہیں اور ہمیں یادِ الٰہی سے دور لے جاتی ہیں۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ایک مجازی ہجوم کو اپنے گرد اکٹھا کرتے کرتے، میں اس مقدس تنہائی اور سکوت کو کھو رہا ہوں جو اپنے خالق کے حضور سر بسجود ہونے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ میرا فیس بک کا آخری پوسٹ ہے جو میں فیس بک پر نہیں لکھ رہا۔ عرض خدمت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں ایک ایسا غیر متوقع لمحہ بھی آتا ہے جب دنیا کا شور و غوغا اس کے لیے بے معنی ہونے لگتا ہے۔ طویل غوروخوض کے بعد، میں نے بالآخر فیس بک اور انسٹاگرام سے اپنے تمام رشتے باضابطہ طور پر منقطع کر لیے ہیں، یہ اکاؤنٹس اب ہمیشہ کے لیے حذف (delete) کیے جا چکے ہیں۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک، ان ڈیجیٹل گزرگاہوں نے مجھے میری توقعات سے کہیں بڑھ کر بہت کچھ دیا۔ انہوں نے مجھے قارئین کا ایک وسیع حلقہ دیا، ہم سفر ادیبوں کی انجمن عطا کی، ہم خیال لوگوں کی ٹولیاں نصیب ہوئیں، اور ایسے مراسمِ دوستی عطا کیے جنہوں نے میرے ادبی سفر کو توانائی بخشی۔ اس بے پایا کرم کے لیے، اور ان محبت کرنے والے قارئین کے لیے جنہوں نے میرے لفظوں میں معانی دریافت کیے، میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ میری یہ رخصت کسی ناراضگی یا خفیہ پلان کا نتیجہ نہیں ہے۔ میں یہ بستی اس لیے چھوڑ رہا ہوں کیونکہ ہر (medium) کا اپنی زندگی میں ایک خاص وقت ہوتا ہے، اور میرا ذہن اب کسی اور جانب ہجرت کر چکا ہے۔
تحدیث نعمت کے طور پر عرض کر رہا ہوں کہ جس وقت میں نے یہ فیصلہ لیا اس وقت اردو ادب کے تمام بڑے چھوٹے ادبا و شعرا میرے فیس بک دوست ہیں اور ایک کلک پر میری چیزیں ان تمام دانشوروں تک پہنچ جاتی ہیں، اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت فیس بک پر مجھے خاصی شہرت بھی ملی ہوئی ہے لیکن کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتاہے، بڑی تبدیلی بڑی قربانی کا تقاضہ کرتی ہے، سو میں اپنی اس شہرت کا سودا کر رہا ہوں کسی ایسی چیز سے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔ وہ میرا لعل و بدخشاں، وہ جو سد سکندری کی طرح ڈھال ہے، وہ جو دل کا میہمان ہے اور وہ جو وارفتہ دلوں کو منزل عشق سے ہمکنار کرنے والا ہے۔
آپ واقف ہیں کہ کیسے رفتہ رفتہ ان مجازی فضاؤں کا جغرافیہ اور مزاج بدل گیا۔ انسانی مکالمے کی دھیمی اور دلآویز تال کو بڑی بیدردی سے الگورتھم کے جارحانہ غلبے نے نگل لیا۔ توجہ کو منتشر کرنے والے، بکھرے ہوئے اور بسا اوقات روح کو مجروح کرنے والے مناظر کے ایک لامتناہی سیلاب نے فضا کو مسموم کرنا شروع کر دیا۔ ریلز کے نام پر انسانی ذہن و دماغ میں دن رات معلومات کا ملبہ اکٹھا ہو رہا ہے اور اللہ کی بنائی ہوئی یہ مخلوق بھیتر سے بے چین ہوتی چلی جا رہی ہے۔ میں اپنی آنکھوں سے ایک خاموش المیہ رونما ہوتے نہیں دیکھ سکتا جہاں دو دلوں کے بامعنی رابطے کو محض سکرین پر بے مقصد انگلیاں گھمانے (compulsive scrolling) کی جبلت میں تبدیل کر دیا جائے۔
یہ ٹیکنالوجی پر کوئی فتوٰی نہیں ہے، اور نہ ہی ان لوگوں پر کوئی تنقید ہے جو ان مجازی دیواروں کے اندر اپنے لیے کوئی معنی تلاش کر لیتے ہیں۔ یہ تو انسان کی اپنی ذات کا باطنی سفر ہے۔ یہ اپنی ذات کی بازیافت ہے۔ اللہ پاک نے سورۂ انفطار میں فرمایا ’’اے انسان تجھے تیرے اس کریم رب سے کس نے غافل کیا جس نے تجھے پیدا کیا؟‘‘ تو کیا ہم یونہی شہرت کی طلب میں اپنے کریم رب کو چھوڑ کر الگورتھم کی دھول پھانکتے رہیں؟ کیا ہم رات کے اندھیرے میں خالق کی یاد میں گم ہونے کے بجائے موبائل اسکرین پر نیم عریاں حسیناؤں کا رقص دیکھ کر اپنے ایمان کی گردن مروڑ دیں؟ وہ ذات پاک جس نے صاف صاف کہہ دیا ہے ’’ یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(19)‘‘ (اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں) کیا ریلز دیکھنا آنکھوں کی خیانت نہین ہے؟ کیا نام و نمود کی حرص میں دن بھر فیس بک کے گلیاروں میں بھٹکنا اپنے کریم رب سے روگردانی نہیں ہے؟
فطرت، کتاب اور ذاتِ الٰہی کے قریب زندگی بسر کرنے کے لیے انسان کو اپنی توجہ کے گرد ایک مضبوط حصار قائم کرنا پڑتا ہے۔ میں نے ان غیر مرئی ستاروں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے جو ذہن کو اس مشینی دنیا کا اسیر بناتے ہیں۔ چنانچہ، یوٹیوب (YouTube) کی ایپ کو موبائل فون سے دیس نکالا دے دیا گیا ہے، اب وہاں تک رسائی صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب شدید ضرورت کے تحت براؤزر کے ذریعے شعوری طور پر سفر کیا جائے۔ آن لائن میوزک ایپس کی اس خودکار اور بے چین لہر کو بھی خاموش کر دیا گیا ہے، اب ان کی جگہ میں نے اپنے پسندیدہ نغموں اور صوفی فارسی قوالیوں کا ایک محدود اور مخلصانہ ذخیرہ ڈاؤن لوڈ کر کے رکھ لیا ہے، تاکہ جدید کلاؤڈ (cloud) کے ہنگاموں، اشتہارات اور میکانکی ترغیبات کے بغیر، ایک دھیمی اور پاکیزہ مہموز کا آف لائن لطف اٹھایا جا سکے۔
اس مادی اور حقیقی دنیا نے اس خالی پن کو بھرنے کے لیے فوراً میری طرف رجوع کیا ہے۔ جہاں کبھی رات کے اندھیرے میں ایک چمکتی ہوئی سکرین حاوی ہوا کرتی تھی، وہاں اب میرے بستر پر ایک متبرک بساط بچھ چکی ہے۔ میں نے اپنے تکیے کے سرہانے حقیقی، کاغذی کتابیں رکھنے کی اس قدیم اور روح پرور روایت کو دوبارہ زندہ کر لیا ہے۔ رات کی خاموشی میں ہاتھ بڑھا کر کسی کتاب کی ضخیم اور لمس انگیز جلد کو محسوس کرنے میں ایک عجیب تقدس ہے، ایک سمارٹ فون کے گرم شیشے کو چھونے کے بجائے انسانی فکر کے گھروندے کو اپنے ہاتھوں میں تھامنا۔ ایک مدہم لیمپ کی روشنی میں، کاغذ پر گرتے ہوئے سائے کو پڑھنا، بذاتِ خود عبادت کا ایک ایسا خوبصورت عمل ہے جس کی نقل کوئی ڈیجیٹل سکرین کبھی کر ہی نہیں سکتی۔ میں اپنے تمام دینی بھائی سے التماس کرتا ہوں عقل کو الگورتھم کے سیلاب سے میلا نہ ہونے دیں۔ انسان نور الہی کا ایک ٹکڑا ہے اسے اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہیے کہ ایک کودتے ہوئے پانی کے قطرے سے اس قدر عظیم تخلیق پانے والا کیا محض ریلز اسکرول کرنے دنیا میں آیا ہے؟ حضرت نظامی گنجوی نے فرمایا تھا ع
مریز آبِ خود را دریں تیرۂ خاک
(اپنی مقدس تخلیق کو اس بے کار دنیا میں ضائع مت کر!)
لکھنے والے جانتے ہیں کہ لفظوں کو جڑیں پکڑنے کے لیے تنہائی کی مٹی درکار ہوتی ہے۔ اور اہل نظر کو معلوم ہے کہ دعا کو ایک خالی کمرے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس سکرولنگ کے مصنوعی ماحول سے قدم باہر نکال کر، میں دراصل اسی حقیقی کائنات میں واپس لوٹ رہا ہوں جسے اللہ نے خود تخلیق کیا ہے، اپنے پیروں تلے موجود مٹی، پتوں کی بدلتی ہوئی زاوئیہ سازی، کلاسیکی صفحات کی ٹھہری ہوئی گہرائی، اور اس کی ذات کا وہ عمیق اور شفا بخش سکوت۔ میں نے ٹائم لائن کی سستی تالیوں کا سودا مصلّے کی لازوال خاموشی سے کر لیا ہے۔
ان تمام دوستوں، قارئین اور ہم سفروں کا، جنہوں نے بارہ برس تک اس ڈیجیٹل دشت میں میرے ساتھ سفر کیا، آپ کی لازوال محبتوں کا بے حد شکریہ۔ ہمارا رشتہ سچا تھا، اور چونکہ وہ سچا تھا، اس لیے اس کی بقا کسی موبائل ایپلیکیشن کی محتاج نہیں ہے۔ ہم دوبارہ ایک دوسرے کو پا لیں گے، کتابوں کے اوراق میں، خطوط کی دھیمی اور پروقار مسافتوں میں، اور خلوصِ دل سے مانگی گئی دعاؤں کے حصار میں۔ سچ تو یہ ہے کہ لکھنے پڑھنے کا یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا بلکہ اس کی صورت بدل گئی ہے۔ میرے احباب واٹسپ پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں یہ واحد ذریعہ (جب تک کہ اس کا بھی الگورتھم نہیں بدل جاتا) باقی رہے گا۔ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں دعا ہے کہ مولیٰ تعالی ہمیں وقت کی اہمیت سمجھنے اور اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔





