دہلی ایس آئی آر پر ہنگامہ، 33 لاکھ ووٹروں کی تفصیلات طلب
دہلی ایس آئی آر پر سپریم کورٹ میں درخواست، 33 لاکھ ووٹروں کے نوٹس اور ’منطقی تضادات‘ پر شفافیت کا مطالبہ۔
نئی دہلی: دہلی میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی عمل، یعنی ایس آئی آر (Special Intensive Revision)، کے دوران شفافیت اور نوٹس جاری کرنے کے طریقۂ کار کو لے کر سپریم کورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان تمام ووٹروں کی تفصیلات عام کی جائیں جنھیں ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ انہیں نوٹس دینے کی اصل وجہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا ہے اور یہ کیس ایس آئی آر سے متعلق دیگر معاملات کے ساتھ سنا جائے گا۔یہ درخواست سماجی کارکن انجلی بھاردواج اور امرتا جوہری کی جانب سے معروف وکیل پرشانت بھوشن کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے خاص طور پر الیکشن کمیشن اور دہلی کے چیف الیکٹورل افسر کی جانب سے نوٹس پانے والے ووٹروں کے نام اور نوٹس کی مخصوص وجوہات عوام کے سامنے نہ لانے پر سوال اٹھایا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ دہلی کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں تقریباً 97.53 لاکھ ووٹر شامل ہیں۔ دوسری جانب تقریباً 47.56 لاکھ نام ڈرافٹ فہرست سے باہر رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 33.13 لاکھ ووٹروں کو دو زمروں، یعنی ’نو میپنگ‘ اور Logical Discrepanciesکی بنیاد پر نوٹس دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔درخواست کے مطابق، تقریباً 13.79 لاکھ ووٹر ’نو میپنگ‘ کے زمرے میں ہیں، جب کہ تقریباً 19.33 لاکھ ووٹروں کو ’منطقی تضادات‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ’منطقی تضادات‘ کی اصطلاح کی واضح سرکاری تعریف، معیار اور طریقۂ کار عوامی طور پر دستیاب نہیں ہے۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نوٹس حاصل کرنے والے تمام ووٹروں کی ایک مکمل، قابلِ تلاش اور یکجا فہرست شائع کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اس فہرست میں متعلقہ ووٹر کا نام، پتہ اور نوٹس جاری کرنے کی مخصوص وجہ یا زمرہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی واضح کرنے کی اپیل کی ہے کہ کسی ووٹر کو ’منطقی تضادات‘ کے زمرے میں شامل کرنے کے لیے کون سے اصول استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں استعمال ہونے والی تعریف، معیار، الگورتھم سے متعلق پیرامیٹرز اور انتظامی رہنما اصول بھی عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بعض ووٹروں کو بھیجے گئے نوٹس میں صرف عمومی نوعیت کی وجہ درج کی گئی ہے۔ ان کے مطابق، اگر نوٹس میں یہ واضح نہ ہو کہ کس ریکارڈ، دستاویز یا معلومات کی بنیاد پر کسی شخص کے ووٹر ریکارڈ پر سوال اٹھایا گیا ہے، تو متعلقہ ووٹر کے لیے اپنا موقف پیش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔درخواست میں یہ مؤقف بھی رکھا گیا ہے کہ مناسب معلومات اور معقول نوٹس کے بغیر کسی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مبہم یا غیر واضح نوٹس کی بنیاد پر ووٹر کا نام حذف کرنے کے عمل کو روکا جائے اور ہر متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا مؤثر موقع دیا جائے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دہلی کی ڈرافٹ انتخابی فہرست میں بڑی تعداد میں نام شامل نہیں کیے گئے ہیں، جب کہ الگ سے لاکھوں ایسے ووٹر بھی ہیں جن کے ریکارڈ میں ممکنہ تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ صرف نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ووٹر کو حتمی طور پر نااہل قرار دے دیا گیا ہے؛ نوٹس پانے والے افراد کو وضاحت اور دستاویزات پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ بنچ میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں۔ دستیاب تازہ عدالتی و میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے کو ایس آئی آر سے متعلق دیگر درخواستوں کے ساتھ ترجیحی بنیاد پر سماعت کے لیے رکھا گیا ہے۔
انجلی بھاردواج اور دیگر درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل شفاف ہونا چاہیے اور جس شخص کو نوٹس دیا جائے، اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے ریکارڈ میں کس مخصوص بنیاد پر اعتراض سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب، اس معاملے میں حتمی فیصلہ عدالت کی سماعت اور متعلقہ حکام کے موقف کے بعد سامنے آئے گا۔





