دھیریندر شاستری کے بھائی پر گولی چلانے کا مقدمہ درج
چھترپور میں شالیگرام گرگ پر نوجوان کو گولی مارنے کا الزام، مقدمہ درج، زخمی کی حالت تشویشناک، پولیس واقعے اور وائرل ویڈیو کی تحقیقات میں مصروف۔
مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور میں باگیشور دھام کے پیٹھادھیش دھیریندر کرشن شاستری کے بھائی شالیگرام گرگ ایک بار پھر تنازع میں گھر گئے ہیں۔ ان پر ایک نوجوان کو گولی مارنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس کے مطابق زخمی نوجوان کی شناخت موتی لال کشواہا کے طور پر ہوئی ہے، جنھیں شدید زخمی حالت میں ضلع اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے ان کے جسم سے گولی نکال دی ہے، تاہم ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
چھترپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ رجت سکلیچا نے میڈیا کو بتایا کہ راج نگر تھانہ علاقے کے گاؤں کوڑا میں دو فریقوں کے درمیان جھگڑے اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی معائنے اور ایکس رے رپورٹ میں گولی لگنے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد شالیگرام گرگ، ستیش، آشیش اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
زخمی موتی لال کشواہا نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام لگایا کہ شالیگرام گرگ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ان کے گھر آئے، انہیں زبردستی باہر نکالا، لاٹھی ڈنڈوں سے تشدد کیا اور بعد ازاں کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک گولی ان کے سینے میں لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔موتی لال نے مزید الزام عائد کیا کہ شالیگرام گرگ علاقے کے کسانوں پر اپنی زمین فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں اور انکار کرنے والوں کو دھمکیاں دینے یا تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
اس واقعے سے متعلق ایک مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ویڈیو میں چند افراد کو بھاگتے ہوئے اور زخمی نوجوان کے اہلِ خانہ کو ان کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک منظر میں ایک شخص کے ہاتھ میں اسلحہ نما چیز بھی دکھائی دیتی ہے، تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی حقیقت جانچ کا حصہ ہے اور اس کے ہر پہلو کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شالیگرام گرگ کا نام کسی تنازع میں سامنے آیا ہو۔ سال 2023 میں ایک شادی کی تقریب کے دوران مبینہ طور پر پستول لہرانے، دھمکانے اور مارپیٹ کرنے کے الزامات پر ان کے خلاف درج فہرست ذات و قبائل (ایس سی/ایس ٹی) ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 2024 میں ساگر ضلع کے ایک ٹول پلازہ پر ٹول ملازمین سے مبینہ بدسلوکی اور مارپیٹ کے معاملے میں بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی۔ موجودہ واقعے میں پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اور بیانات کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔






