ایران کا دوٹوک مؤقف، دباؤ میں جھکنے سے صاف انکار
ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا، مگر دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود قومی حقوق پر سمجھوتے سے انکار کردیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اُن کا ملک ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا آیا ہے اور خطے میں کشیدگی اور جنگ سے بچنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب بھی مذاکرات اور بات چیت کے تمام دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے، تاہم قومی وقار اور عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈال دینا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ایران اسلامی جمہوریہ عزت، خودمختاری اور اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے باوجود اپنے عوام کے جائز حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر ڈٹ کر کھڑا رہے گا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اُن کی حکومت منطق، دانشمندی اور مکمل قوت کے ساتھ عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکانے کی سوچ محض ایک غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری اور باہمی احترام ہی مسائل کے حل کا محفوظ، پائیدار اور دانشمندانہ راستہ ہے، جبکہ جنگ اور دھمکیوں کی سیاست خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکہ کو مکمل طور پر مطمئن کرنے والے جوابات نہ دیے تو واشنگٹن تیزی سے سخت اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکہ تعلقات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔





