حجاب کی آڑ میں
ودود ساجد
ایڈیٹر روز نامہ انقلاب
13مئی 2026 کو کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اسکولی طالبات کے حجاب پر پابندی کا وہ حکم واپس لے لیا جو وہاں کی بی جے پی حکومت نے 5 فروری 2022 کو عاید کردیا تھا۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام نے پورے ملک اور خاص طور پر کرناٹک کے سیاسی اور سماجی ماحول میں انتشار پیدا کردیا تھا۔ یہ قضیہ کرناٹک ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ تک بھی پہنچا تھا۔
کرناٹک کی موجودہ کانگریس حکومت 20 مئی 2023 کو وجود میں آئی تھی۔ حکومت کو یہ امتیازی اور متعصبانہ فیصلہ واپس لینے میں تین سال لگ گئے۔ اس قضیہ پر نظر رکھنے والے کچھ حلقوں کا دعوی ہے کہ اس پیش رفت میں کرناٹک کے تمام طبقات کے علماء کی مسلسل کوششوں کا عمل دخل ہے۔ ہمیں اس قضیہ کے سیاسی پہلوؤں سے کوئی بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ بی جے پی حکومت نے مسلم طالبات کے ایک آئینی اور قانونی حق پر قدغن لگائی تھی اور کانگریس حکومت نے تاخیر سے ہی سہی مسلم طالبات کے اس آئینی اور قانونی حق کو ’واگزار‘ کردیا ہے۔
بلاشبہ بی جے پی کی پچھلی حکومت کا مقصد مسلمانوں کو تنگ کرکے اپنے حق میں ہندو ووٹوں کو متحد کرنا ہی تھا لیکن کانگریس حکومت نے بھی اتنی تاخیر سے کسی مقصد کے بغیر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا ہے۔ حجاب پر پابندی والا حکم کرناٹک کے ’ڈیپارٹمنٹ آف اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی‘ نے جاری کیا تھا اور اب اس حکم کی واپسی کا نیا سرکلر بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو ’ریگولیٹ‘ کرنے والے سرکاری محکموں کو بھی برسر اقتدار سیاسی پارٹیاں کس طرح اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ تشویش کا پہلو یہی ہے کہ مسلمان اس ملک کی سیاسی پارٹیوں کے متعصبانہ مفادات کے حصول کا ایندھن بن گئے ہیں۔
مسلمانوں کے تمام سیاسی‘ سماجی اور مذہبی قائدین کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے۔ براہ راست سیاسی محاذ آرائی نہ اس طرح کے مسائل کا حل ہے اور نہ ہی مسلمان سیاسی طور پر مضبوط ہیں۔ کرناٹک کے مذکورہ قضیہ کا حل بھی اتنا ہی آسان تھا لیکن اسے وہاں کے ناپختہ کار‘ جوشیلے اور سیاسی شعور سے ناآشنا طبقات نے انتہائی مشکل بنادیا۔ میں نے اس ضمن میں 13 فروری 2022 سے 20 مارچ 2022 کے درمیان دو چھوٹے اور تین بڑے مضامین لکھ کر اس قضیہ کے تمام پہلوئوں پر گفتگو کی تھی۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں یہ قضیہ شاید انتہائی نادر قضیوں میں سے ایک ہے جسے حکومت نے ہی بگاڑا اور حکومت نے ہی سنوار بھی دیا۔ چٹکیوں میں حل ہوجانے والے اس مسئلہ پر پہلے ہائی کورٹ کی فل بنچ میں مسلسل 11 روز تک سماعت ہوتی رہی اور پھر سپریم کورٹ میں مسلسل 10 روز تک سماعت ہوتی رہی۔ لیکن مسئلہ جوں کا توں رہا۔
کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی ’فل بنچ‘ نے اپنے فیصلہ میں جہاں بی جے پی حکومت کے حجاب پر پابندی والے فیصلہ کو جائز قرار دیدیا تھا وہیں اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ فیصلہ بھی کردیا تھا کہ حجاب کا استعمال اسلام میں کوئی لازمی امر نہیں ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے تفصیلی سماعت کے بعد ایک منقسم فیصلہ صادر کیا۔ جسٹس سدھانشو دھولیا نے حجاب پر پابندی کے فیصلہ کو غلط قرار دیا جبکہ جسٹس ہیمنت گپتا نے فیصلہ کو درست ٹھہرایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس قضیہ کو زیادہ بڑی بنچ کیلئے چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد سے آج تک پانچ چیف جسٹس اپنا منصب سنبھال چکے ہیں لیکن اس قضیہ پر سپریم کورٹ میں تین رکنی بنچ تشکیل نہیں دی جاسکی۔
اس دوران ایک سے زیادہ مرتبہ وکلاء نے چیف جسٹس کی عدالت میں اس قضیہ کو اٹھایا لیکن جسٹس یو یو للت سے لے کر جسٹس بی آر گوائی تک ہر چیف جسٹس نے بڑی بنچ کی تشکیل کا وعدہ کرنے کے باوجود بنچ تشکیل نہیں دی۔ اب موجودہ چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے تو اس مسئلہ کا کسی نے ذکر تک بھی نہیں کیا۔ مختلف معاملات میں ان کے سخت طرز عمل کو دیکھ کر شاید کوئی اس کی جرات بھی نہیں کرے گا۔
2022 میں بی جے پی حکومت کے دوران کرناٹک میں حجاب کے نام پر جو کچھ ہورہا تھا اس کا کوئی ایک رخ نہیں تھا۔ مسلمانوں کے نام پر وہاں ناکام سیاسی گروہ عواقب وعوامل کا جائزہ لئے بغیر جو آگ دہکا رہے تھے اس کی تپش دوسرے اہم موضوعات کو جلاکر بھسم کر رہی تھی۔ سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے اپنے جوش کی گرمی بکھیرنے والے گروہوں کو اپنے گھروں کی خبر نہیں تھی۔ انہوں نے بچیوں کو ایسے وقت میں سڑکوں پر دھکیل دیا جب امتحانات سر پر تھے۔
میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ کتنے ہی گھروں میں ارتداد نے گھس پیٹھ کرلی ہے۔ اس سلسلہ میں درجنوں مصدقہ رپورٹس کا مطالعہ کرکے بتایا تھا کہ کتنی مسلم بچیاں دوسروں کے رنگ میں رنگ چکی ہیں۔ لیکن اس وقت پوری قوم حجاب پر نعرے بلند کر رہی تھی۔ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بورڈ کے ممبران کو لکھا تھاکہ’’ خواتین کے حجاب کا مسئلہ ایک چنگاری کی طرح کرناٹک کے ایک شہر سے اٹھا اور بہت جلد آگ بن کر پورے ملک میں پھیل گیا۔ اب صورتحال بہت ہی نازک ہے۔ ایک طرف پردہ شرعاً واجب ہے‘ ہم اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے اور دوسری طرف فرقہ پرستوں نے اس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کیلئے ایک عنوان بنالیا ہے اور نوجوان طلبہ وطالبات اس سے متاثر ہورہے ہیں‘‘۔
اس خط میں مزید جو لکھا تھا اس کا مفہوم یہ تھا کہ “ایسی صورت حال میں بورڈ کی لیگل کمیٹی اورعاملہ کے چند ارکان کی میٹنگ میں یہ طے پایا کہ اس مسئلہ کو سڑک پر لانے کی بجائے قانونی طریقہ کار اور گفت وشنید کے ذریعہ حل کیا جائے‘‘۔ اس خط میں اس اندیشہ کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ’’ کہیں یہ مسئلہ بابری مسجد (کے مسئلہ ) کی نوعیت اختیار نہ کرلے اس لئے اس پر بورڈ کے ذمہ داران احتجاجی ریلیوں اور ٹی وی بحث ومباحثہ میں شریک نہ ہوں اور جو فریق کرناٹک ہائی کورٹ میں لڑ رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر پیروی کی جائے اور ضرورت پڑے توسپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔ ‘‘
کرناٹک ہائی کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے ‘ دیودت کامت اور یوسف مچھالا نے بڑی خوبصورتی‘ جامعیت اور موثر انداز میں بحث کرکے اپنے دلائل کی عمارت کھڑی کردی تھی۔ لیکن بعض مسلم طالبات کے وکیل ونود کلکرنی نے عدالت سے ایک عجیب و غریب راحت طلب کرکے ان کیلئے مشکل کھڑی کردی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم طالبات کو جمعہ کے دن اور رمضان میں اسکارف اور حجاب استعمال کرنے کی اجازت دیدی جائے۔ بنیادی طور پر مذکورہ مطالبہ ہی غلط تھا۔جو بچی حجاب پہنتی ہے اس کو تو ہر روز پہننا ہے۔
معروف سینئر وکیل روی کمار ورما نے عدالت سے پوچھا تھا کہ جب ایک سکھ ایم پی پگڑی باندھ کر پارلیمنٹ میں داخل ہوسکتا ہے تو ایک مسلم طالبہ سرپر اسکارف باندھ کر کلاس میں کیوں داخل نہیں ہوسکتی اور کیا حجاب سے روک کر حجاب اور تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جارہا ہے؟ اس سے پہلے سنجے ہیگڑے نے عدالت سے کہا تھا کہ سکھوں کو کرپان رکھ کر پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ حجاب سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے جبکہ کرپان کا اگر استعمال کیا جائے تو وہ کم نقصان دہ نہیں ہے۔
کرناٹک کے بہت سے ذمہ دارعلماء اور دانشوروں نے مجھ سے گفتگو میں بتایا تھا کہ یہ مسئلہ ابتداءً جن پانچ بچیوں سے شروع ہوا تھا انہی بچیوں کے ماں باپ اور اسکول انتظامیہ کے ذمہ داروں کے درمیان گفتگو کے بعد یہ مسئلہ حل بھی ہوگیا تھا۔ لیکن ایک ’ناکام ‘سیاسی گروہ نے اس مسئلہ کو نئے سرے سے طول دیا۔ ٹی وی پر ہذیانی بحثیں جاری تھیں۔ خود مسلمانوں کی طرف سے جو لوگ بحث میں شریک ہورہے تھے ان میں سے زیادہ تر اشتعال میں آرہے تھے۔
حجا ب کے حق میں بڑی تعداد میں ہندو دانشور اور خواتین کے حقوق کی علم بردار تنظیمیں بھی سامنے آرہی تھیں۔ پوری دنیا میں غصہ کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کویت کی پارلیمنٹ میں بھی اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔ یہاں سوشل میڈیا پر بھی طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا۔ ایک یوٹیوب چینل کے نوجوان عالم نے باقاعدہ ایک ’کولاج‘ اور ’تھمب نیل‘ بنایا جس میں جلی حروف میں لکھا: حجاب پر عدالت کا ظلم ’’چیف …سنگھیوں کا غلام نکلا۔‘‘ میں نے چیف کے بعد آنے والا لفظ عمداً نہیں لکھا۔ لیکن سوشل میڈیا پر تو یہ موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ پھر عدالت سے رجوع ہی کیوں کیا گیا؟۔ اس احمقانہ طرز عمل کی بھنک کرناٹک ہائی کورٹ تک بھی پہنچی۔ چیف جسٹس ریتوراج اوستھی نے کہا کہ ان نادیدہ ہاتھوں کے خلاف تیزی سے تحقیقات ضروری ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد لوگوں اور گروپوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے‘ گرفتاریاں ہوئیں اور متعدد مقامات پر مظاہرین پر لاٹھی چارج تک ہوا۔
میری رائے اس وقت بھی یہی تھی کہ اس سلسلہ میں بہتر ہوتا کہ حکومت سے ہی رجوع کیا جاتا۔ آخرکار آج بھی یہ کام حکومت نے ہی کیا۔ حجاب کے تعلق سے کرناٹک ہائی کورٹ کی فل بنچ نے جو فیصلہ دیا تھا اسے ٹھوس دلائل کی روشنی میں انصاف نہیں کہا جاسکتا۔ ماہر قانون ’منو سیبسٹین‘ نے لکھا تھا کہ یہ فیصلہ’’ تضادات اور تجاوزات‘‘ کا مجموعہ ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف کلیدی عرضی گزار طالبہ ریشم اور ایک 65 سالہ مسلم خاتون نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس ہیمنت گپتا کی بنچ نے متضاد اور منقسم فیصلہ دینے کے باوجود اس بنیاد پر فیصلہ نہیں دیا کہ حجاب اسلام کے لازمی شعائر میں سے ہے یا نہیں۔ دونوں ججوں نے اس مقدمہ کو بالترتیب خواتین کے حق انتخاب اور اسکولوں کے نظام کے نقطہ نظرسے دیکھا۔
جسٹس دھانشو دھولیا نے اپنے فیصلہ میں کرناٹک ہائی کورٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اس نے مقدمہ کی سماعت میں غلط راستہ اختیار کیا اور اسلام میں حجاب کی لازمیت اور عدم لازمیت کے سوال پر فیصلہ دے کر غلط کیا۔جسٹس سدھانشو دھولیا سے پچھلے دنوں میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ میرے ذہن میں صرف یہ عنصر تھا کہ مسلم طبقہ جو پہلے ہی ہر میدان میں پچھڑا ہوا ہے اب اس کی باحجاب بچیاں بھی تعلیم سے محروم کردی جائیں گی۔ انہوں نے فیصلہ میں لکھا کہ حجاب کا مسئلہ اپنے حق کے اختیار کا مسئلہ ہے۔ آئین یا قانون یا حکومت مسلم بچیوں کو مجبور نہیں کرسکتی کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے۔۔ میں نے 2022 میں ہی کہا تھا کہ عدالت میں اس مسئلہ کو مذہبی بنیاد پر نہ لڑا جائے ۔ سپریم کورٹ کے دونوں ججوں کے فیصلہ نے میرے اس موقف کی تائید کردی۔۔
پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں 16دنوں تک نو ججوں کی بنچ سبری مالا مندر کا کیس سنتی رہی۔ اب اس نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔اس قضیہ پر میں پچھلے دو مضامین میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ بیشتر ججوں کی رائے ہے کہ مذہبی روایتی معاملات میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔بہرحال مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو مسائل میں مبتلا کرکے اپنے ہی مقاصد حاصل کرتی ہیں۔ انہیں سیکولرزم یا مسلمانوں سے کوئی قلبی لگائو نہیں ہے۔۔۔۔ وہ اپنے مقصد کیلئے جب چاہیں ہیں حجاب پر پابندی لگادیں اور جب چاہیں پابندی اٹھالیں’ مسلمانوں کی تالیف قلب سے انہیں کوئی غرض نہیں ۔۔۔





