کانگریس کا مودی حکومت پر تشہیری اخراجات اور مہنگائی پر وار
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا مودی حکومت پر بڑا حملہ، عوام کو بچت کا مشورہ مگر تشہیر پر کروڑوں لٹانے کا الزام۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی اُس اپیل پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے جس میں عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے اور گھریلو استعمال میں کوکنگ تیل کی کھپت کم کرنے کا کہا گیا تھا۔ کھڑگے نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام کو سادگی، بچت اور کفایت شعاری کا درس دیا جا رہا ہے جب کہ دوسری طرف حکومت اپنی تشہیر اور سیاسی امیج بہتر بنانے پر بے تحاشا رقم خرچ کر رہی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کانگریس صدر نے کہا کہ حکومت روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے اشتہارات اور تشہیری مہمات پر خرچ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2014-15 سے لے کر 2024-25 تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے مجموعی طور پر تقریباً 5 ہزار 987 کروڑ روپے تشہیری سرگرمیوں پر خرچ کیے ہیں۔
کھڑگے نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات عام شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی تشہیر پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں حکومت کی جانب سے سادگی اپنانے کی اپیل عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومتی ماڈل کمزور اور معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کو مزید مشکلات میں دھکیل رہا ہے۔ کھڑگے کے بقول حکومت ایک جانب عام شہریوں سے قربانی مانگتی ہے جب کہ دوسری جانب سیاسی تشہیر اور ذاتی امیج سازی پر خطیر رقوم خرچ کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ حکمرانی سے غریب اور متوسط طبقے کی معاشی عزتِ نفس متاثر ہو رہی ہے۔
کانگریس صدر کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دے رہی ہیں جبکہ حکمراں جماعت کی جانب سے ابھی تک اس تنقید پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔





