سونم رگھونشی کو ضمانت، راجہ قتل کیس میں نیا موڑ
سونم رگھونشی کو راجہ رگھونشی قتل معاملہ میں ضمانت، ویپن رگھونشی ہائی کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے.
میگھالیہ میں پیش آنے والے راجہ رگھونشی قتل معاملہ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزمہ سونم رگھونشی کو عدالت کی جانب سے ضمانت دے دی گئی ہے۔ وہ اس سے قبل شیلانگ کی جیل میں قید تھیں۔ اس مقدمے میں شامل دیگر تین ملزمان کو پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی، اور اب سونم کی رہائی نے کیس کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔مقتول کے بھائی ویپن رگھونشی نے اندور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں وکیل کے ذریعے معلوم ہوا کہ سونم کو 27 اپریل کو ضمانت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سونم کو اتر پردیش سے حراست میں لیا گیا تو پولیس نے گرفتاری کی واضح وجہ نہیں بتائی، جسے بعد ازاں عدالت میں ان کے وکیل نے بطور دلیل پیش کیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے سونم کے حق میں فیصلہ سنایا۔
ویپن رگھونشی نے اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق خاندان اب بھی اس معاملے میں مکمل شفافیت اور سخت قانونی کارروائی کا خواہاں ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں اندور کے رہائشی راجہ رگھونشی کو میگھالیہ کے علاقے شیلانگ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنی شادی کے کچھ ہی دن بعد اپنی اہلیہ سونم کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے وہاں گئے تھے۔ دونوں 20 مئی کو روانہ ہوئے اور 23 مئی کو لاپتا ہو گئے۔
کئی دنوں کی تلاش کے بعد 2 جون 2025 کو راجہ رگھونشی کی لاش ایسٹ خاصی ہلز کے علاقے ویساڈونگ فالز کے قریب ایک گہری کھائی سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد سونم کو مرکزی ملزم قرار دیا تھا، تاہم ان کے اہلِ خانہ مسلسل ان کی بے گناہی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔یہ مقدمہ ابتدا ہی سے عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور حالیہ ضمانت کے فیصلے نے ایک بار پھر اسے سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں ممکنہ اپیل کے بعد یہ معاملہ کس سمت اختیار کرتا ہے۔





