صحت و سکون

عالمی یوم صحت اور ہماری زندگی

غلام علی اخضر

انسان کے لیے اگر دنیا میں کوئی سب سے بڑی دولت ہے تو وہ اچھی صحت ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے اورجان ہے تو جہان ہے۔ کسی بھی خوش حال معاشرے اور ترقی پذیر ملک کا تصور اچھی صحت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ صحت مند قوم ہی ایک ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کر سکتی ہے اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اس طرح ایک بہتر اور صحت مند دنیا کا قیام ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے، یہ حقیقت خودبخود عیاں ہو جاتی ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 7 اپریل کو عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1950 سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے باقاعدگی کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد لوگوں میں صحت کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو فروغ دینا، صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دینا اور طبی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ دن نہ صرف عوام بلکہ حکومتوں اور اداروں کو بھی صحت عامہ کے مسائل کی جانب متوجہ کرتا ہے تاکہ ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔اسی بیداری کے مقصد کے تحت ہر سال ایک خاص موضوع بھی مقرر کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں کسی مخصوص پہلو کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اگر گذشتہ چند برسوں کے موضوعات پر نظر ڈالی جائے تو عالمی سطح پر صحت کے مسائل اور ترجیحات کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 2015میں خوراک کی حفاظت، 2016 میں ذیابیطس پر قابو پانے، 2017 میں ڈپریشن پر بات کرنے،2018 اور19میں ہر فرد کے لیے صحت کی سہولت،2020 میں نرسز اور دائیوں کی اہمیت، 2021میں ایک بہتر اور صحت مند دنیا کی تعمیر، 2022 میں ہماری زمین، ہماری صحت،2023 میں سب کے لیے صحت، 2024 میں میری صحت، میرا حق،2025 میں صحت مند آغاز، امید بھرا مستقبل جیسے موضوعات سامنے آئے۔ جب کہ اس سال2026 کا موضوع ’صحت کے لیے سائنس کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہوں‘ ہے۔یہ موضوع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سائنس ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موجودہ دور میں ہم اس کے بغیر ایک مہذب اور صحت مند معاشرے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جو سائنس کے اثر سے محفوظ ہو۔ طب، زراعت، ماحولیات، تعلیم اور روزمرہ زندگی کے تمام معاملات میں سائنس ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ صحت کے معاملات میں سائنسی تحقیق اور ثبوت پر مبنی فیصلوں پر اعتماد کو مضبوط کیا جائے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق صحت کے فروغ کے لیے چند اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ ان میں سب سے پہلے یونیورسل ہیلتھ کوریج کا فروغ شامل ہے، تاکہ ہر فرد کو سستی اور معیاری طبی سہولیات میسر ہو سکیں۔ اس کے علاوہ وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیاری کو بہتر بنانا، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کی صلاحیت پیدا کرنا بھی بے حد اہم ہے۔ مزید برآں ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور دیگر ماحولیاتی خطرات کے صحت پر اثرات کو سمجھنا اور ان کا سدباب کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی طرح ذہنی صحت بھی انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ ایک صحت مند ذہن ہی ایک صحت مند جسم کی بنیاد ہوتا ہے۔ اس لیے ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس سے متعلق سہولیات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح صحت کی عدم مساوات کو کم کرنا بھی اہم ہے تاکہ ہر طبقے اور ہر علاقے کے لوگوں کو یکساں طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ احتیاطی تدابیر جیسے ویکسی نیشن، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور بروقت تشخیص کے ذریعے بیماریوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب ہم صحت مند معاشرے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف انسان کی صحت نہیں بلکہ ماحول، جانوروں اور دیگر جانداروں کی صحت بھی شامل ہوتی ہے۔ ایک صاف اور صحت مند ماحول ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھیں اور ایسی اشیاکے استعمال سے بچیں جو آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ صاف اور محفوظ پانی کا استعمال بھی بے حد ضروری ہے کیوں کہ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔اسی طرح متوازن غذا صحت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وقت پر کھانا کھائیں، صحت بخش غذا کا انتخاب کریں اور فاسٹ فوڈ سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں۔ گھریلو کھانے کو ترجیح دیں کیوں کہ یہ زیادہ محفوظ اور صحت بخش ہوتا ہے۔ کھانا بنانے کے لیے مٹی یا دیگر محفوظ برتنوں کا استعمال کریں۔ پلاسٹک کے برتنوں سے حتیٰ الامکان اجتناب کریں کیوں کہ یہ ہماری صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
اچھی صحبت بھی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ایسے دوستوں کا انتخاب کریں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں اور آپ کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد دیں۔ اسی طرح مناسب اور مکمل نیند بھی نہایت ضروری ہے۔ وقت پر سونا اور جاگنا صحت مند زندگی کی بنیاد ہے، لیکن موجودہ دور کی مصروفیات اور غیر منظم طرزِ زندگی نے اس عادت کو متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

جانوروں کی صحت کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمے داری ہے کیوں کہ ان کی بیماریوں کا اثر انسانوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر گھروں میں رکھے گئے پالتو جانوروں کی بروقت ویکسی نیشن اور مناسب دیکھ بھال نہایت ضروری ہے۔
اگر ہم ایک گھر کی مثال لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ بیماری کس طرح پورے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ جب کسی گھر میں بیماری داخل ہو جائے اور طویل عرصے تک برقرار رہے تو وہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے حالات میں نہ انسان خود اچھی غذا حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور تعلیم پر توجہ دے پاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور ان کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس طرح ایک بیماری آنے والی کئی نسلوں کی ترقی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔اس لیے بیماری سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ لیکن اگر بیماری لاحق ہو جائے تو فوری طور پر اس کا علاج کروانا چاہیے۔ اکثر لوگ لاپرواہی، بخالت یا مالی مجبوری کی وجہ سے علاج میں تاخیر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیماری شدت اختیار کر لیتی ہے۔ بعد میں نہ صرف علاج مشکل ہو جاتا ہے بلکہ اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس سے مریض اور اس کے اہل خانہ دونوں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خراب صحت ہمارے سماجی رشتوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کئی گھروں میں بیماریوں کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات رشتے ٹوٹنے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں تعلیم اور آگاہی کی کمی کے باعث کئی بیماریوں کابروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ بعض اوقات لڑکیوں کی بیماریوں کو چھپایا جاتا ہے جو بعد میں ازدواجی زندگی میں مسائل کا سبب بنتی ہیں۔

اسی طرح سرکاری اسکیموں اور سہولیات کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مستحق افراد صرف اس وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے کہ ان کے پاس ضروری دستاویزات موجود نہیں ہوتیں۔ کئی بار ایسے کاغذات طلب کیے جاتے ہیں جن کا حصول ایک عام انسان کے لیے نہایت مشکل ہوتا ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے۔ نتیجتاً وہ سرکاری امداد سے محروم رہ جاتے ہیں، حالاں کہ وہ اس کے حقیقی حق دار ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ بعض لوگ جعلی دستاویزات کے ذریعے ان اسکیموں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے اصل مستحق افراد پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایک ایسا شفاف اور آسان نظام قائم کرے جس کے ذریعے حقیقی ضرورت مند افراد تک سہولیات بآسانی پہنچ سکیں اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔
معاشرے میں صحت کے حوالے سے سنجیدگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مختلف اداروں اور تنظیموں کو چاہیے کہ مفت یا کم خرچ طبی کیمپوں کا انعقاد کریں۔ایسے علاقے جہاں سے اسپتال کافی دور ہے وہاں صحت کے مراکز قائم کریں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ علاج معالجے کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائے اور ادویات و ٹیسٹوں کی قیمتوں کو قابو میں رکھے۔خوراک میں ملاوٹ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے کیوں کہ یہ عوامی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک صحت مند ملک کے لیے غربت، بے روزگاری، معاشی اور سماجی ناانصافیوں کا خاتمہ اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم واقعی ایک خوش حال اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صحت کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا، کیوں کہ صحت مند انسان ہی صحت مند معاشرے اور مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

صحت و سکون

ہیومن میٹا نیومو وائرس: ایک مہلک تنفسی وائرس

ڈاکٹر فیض ارشد حالیہ دنوں میں ہیومن میٹا نیومو وائرس (Human Metapneumovirus یا HMPV) ایک خطرناک اور تیزی سے پھیلنے
صحت و سکون

سردیوں میں الرجیز سے کیسے بچیں؟

ڈاکٹر محمد سلمان موسم موسم سرما الرجی والے لوگوں کے لیے سال کا بدترین وقت ہوتا ہے۔ سردی کے موسم