ٹرمپ کے ایران مخالف بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل
ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت بیان پر برطانیہ، امریکہ اور ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ایران کے خلاف نہایت سخت اور غیر مہذب زبان استعمال کی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے ان کے اندازِ گفتگو پر تنقید کی ہے۔برطانیہ کی وزیر تعلیم بریجٹ فلپسن نے ٹرمپ کے الفاظ سے واضح طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی زبان کسی بھی مہذب حکومت کے شایانِ شان نہیں ہے اور نہ ہی برطانوی حکومت اس طرزِ گفتگو کو اپنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اکثر اسی طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں، تاہم انہیں خود وضاحت کرنی چاہیے کہ انہوں نے ایسے الفاظ کیوں استعمال کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اس جاری تنازع میں صرف دفاعی نوعیت کے اقدامات تک محدود رہنا چاہتا ہے۔
امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر چک شومر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو عالمی کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے اور سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔دوسری جانب تھائی لینڈ میں قائم ایرانی سفارت خانے نے بھی ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک عالمی طاقت کے سربراہ کی جانب سے اس قسم کی زبان کا استعمال نہایت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا انداز ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی سنجیدہ رہنما نہیں بلکہ ایک غیر سنجیدہ فرد گفتگو کر رہا ہو، جو عالمی سطح پر امریکہ کے وقار کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں زبان اور سفارتی آداب کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں رہنماؤں کے الفاظ نہ صرف ان کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ عالمی امن و استحکام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔




