جنگ کا جال …
ودود ساجد
(ایڈیٹر انقلاب)
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر مساوی جنگ چھٹے ہفتہ میں داخل ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی تخلیق کردہ مصالحت کی وہ کوششیں بھی دم توڑ گئی ہیں جن کو آگے بڑھانے کیلئے اس نے پاکستان کو آگے کیا تھا۔ سنا ہے کہ پاکستان میں ناکام ہونے کے بعد ٹرمپ نے قطر پر زور ڈالا تھا کہ وہ ثالثی کرائے لیکن امریکہ کے معروف روزنامہ ’دی وال اسٹریٹ جنرل‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق قطر نے ثالثی کا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہاں سے مایوس ہوکر اب ٹرمپ ترکی کے صدر اردوغان پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ استنبول میں مذاکرات کی میزبانی کریں۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی گفتگو سے یکسر انکار کر دیا ہے۔ یہ کتنی ذلت آمیز صورتحال ہے کہ دنیا کا سب سے طاقت ور ملک امریکہ مصالحت کرکے جنگ ختم کرنا چاہتا ہے اور خطہ کا سب سے کمزور ملک ایران کسی بھی قسم کی مصالحت کے بغیر جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ جنگ کے 18 ویں دن 17 مارچ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’امریکہ سب سے طاقتور ملک ہے ‘ اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی ملک نہیں کرسکتا‘ ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے میدان میں بھی اور عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی میدان میں بھی ظہور پز یر ہونے والا ہر واقعہ ٹرمپ کے اس دعوے کو نہ صرف غلط ثابت کر رہا ہے بلکہ ٹرمپ کی بے بسی اور جھنجلاہٹ میں مسلسل اضافہ بھی کر رہا ہے۔ سفارتی سطح پر یہ امریکہ کیلئے کتنی شرمناک صورتحال ہے کہ پہلے پاکستان جیسے ملک کو مذاکرات کیلئے آگے کیا گیا ‘جب وہ ناکام ہوگیا تو پھر قطر سے درخواست کی گئی اور اب قطر نے ثالثی سے ہی انکار کر دیا۔
قطر نے عالمی سطح پر کامیاب مذاکرات کی میزبانی میں نیک نامی کمائی ہے۔ چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود ثالثی کے دو واقعات نے اسے دنیا کے نقشہ پر ایک بڑے اہم ملک کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ افغانستان میں دو دہائیوں تک ’قابض‘ رہنے والے امریکہ اور در بدر بھٹکتے رہنے والے طالبان کے درمیان اسی نے مذاکرات کار کا کردار ادا کیا تھا۔ اب افغانستان میں طالبان حکمرانی کر رہے ہیں اور امریکہ کو وہاں سے بے آبرو ہوکر نکلنا پڑا ہے۔ قطر نے ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کار کا بہترین کردار ادا کیا تھا۔ اسی کے نتیجہ میں اسرائیل کے تمام ڈھائی سو یرغمال شہری اس کے حوالہ کئے گئے۔
یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قطر کی امریکہ یا ٹرمپ سے کوئی قربت نہیں ہے۔ 15 مئی 2025 کو قطر نے ٹرمپ کے دورہ خلیج کے دوران امریکہ میں دس سالہ طویل مدتی منصوبہ کے تحت 1200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ 243 ارب ڈالر کی فوری سرمایہ کاری بھی کی تھی۔ معاہدہ میں دفاع‘ ہوابازی‘ توانائی اور ٹکنالوجی سے متعلق شعبے شامل تھے۔ یہی نہیں قطر کے امیر نے ٹرمپ نوازی میں خلیج کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ملکوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹرمپ کو 400 ملین ڈالر سے تیار ایک خصوصی طیارہ بھی تحفہ میں دیا تھا۔یہ ایک جمبو جیٹ ہے جسے ’فضائی محل‘ کا نام دیا گیا۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ قطر نے ثالثی کرنے کی امریکہ کی درخواست کیوں ٹھکرادی۔ یہ سوال ایک تفصیلی تجزیہ کا متقاضی ہے۔
قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ قائم ہے جو اس خطہ میں موجود دوسرے فوجی اڈوں کیلئے سینٹرل کمانڈ کا کام کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایران نے قطر پر سب سے کم حملے کئے اور خود قطر کا کوئی بہت زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ جانی نقصان تو بالکل نہیں۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جنگ کے دوران فوجی حکمت عملی کے تحت متاثرہ فریق اصل نقصان کے اعداد و شمار کو ظاہر نہیں کرتا لیکن اس کے باجود مختلف ذرائع سے جمع کردہ معلومات یہ ہیں کہ ایران نے قطر میں موجود امریکی اڈہ پر محض 10-15 میزائل اور ڈرون ہی داغے۔ ان میں سے 90 فیصد قطر کے دفاعی نظام نے فضا میں ہی مار گرائے۔ جو میزائل اڈہ کے اندر جاکر گرے ان سے بھی نقصان بہت کم ہوا۔ محض چند امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ماہرین جنگ کا خیال ہے کہ ایران نے جان بوجھ کر قطر پر کم شدت کے حملے کئے۔اس کے مقابلہ میں سعودی عرب میں ریاض کے قریب موجود پرنس سلطان امریکی فوجی اڈہ پر زیادہ میزائل داغے گئے۔ 28 فروری سے 13 مارچ تک کوئی خاص نقصان نہیں ہوا۔ لیکن 14 مارچ کے حملے میں پہلا بڑا نقصان ہوا اور امریکہ کے فضا میں ایندھن بھرنے والے تین جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا گیا۔ 27 مارچ کو اس سے بھی بڑا حملہ کرکے امریکہ کے راڈار بردار طیارہ’ ای 3 آواکس‘ کے علاوہ ’ کے سی 135‘جیسے مہنگے طیارے تباہ کردئےگئے۔ 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ راڈار بردار طیارہ کی قیمت 270 ملین ڈالر ہے۔اس سے امریکی فضائی نگرانی کو سخت ہزیمت پہنچی۔
اسرائیل‘ امریکہ اور خود بعض عرب میڈیا کی رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ قطر اور سعودی عرب کے اپنے انفرا اسٹرکچر کو براہ راست ان حملوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اسی طرح بحرین‘ کویت اور عراق میں بھی امریکی اڈوں اور سفارتخانوں کے علاوہ امریکہ کی شرکت والی کمپنیوں اور ریفائنریوں پر حملے کئے گئے۔ سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات میں امریکی اور اسرائیلی مفادات پر کئے گئے ۔ سب سے زیادہ نقصان بھی وہیں ہوا۔۔
یہ پہلو ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ ایرا ن کی جنگی اسٹریٹجی بنانے والوں نے اس کا خیال رکھا کہ کم حملوں میں امریکہ کو زیادہ نقصان پہنچے۔ ایران نے خلیجی ملکوں میں موجود امریکی اڈوں کے ان اثاثوں کو نقصان پہنچایا جو بہت مہنگے تھے۔ مثال کے طور پر ’آواکس‘ جیسے جنگی طیارے۔ یہ بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں اور تباہ ہونے کی صورت میں ان کی جگہ نئے طیارے جلد فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مذاکرات کے دوران دھوکہ سے امریکہ اور اسرائیل نے عرب ملکوں کے منع کرنے کے باوجود ایران پر حملے کرکے سو سے زائد معصوم اسکولی بچیوں کو ہلاک کردیا تو پھر ایران کو ان ملکوں میں موجود امریکی اڈوں کو کیوں نشانہ نہیں بنانا چاہئے؟
ایران کے یہ حملے اس لئے بھی جائز تھے کہ اس نے بہت پہلے ہی وارننگ دیدی تھی کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خلیجی ملکوں میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ آخر ان اڈوں نے خود عرب ملکوں کا کیا تحفظ کیا؟ قطر میں سب سے بڑا امریکی اڈہ ہے لیکن کیا 9 ستمبر 2025 کو اسرائیل نے اس وقت دوحہ میں ایف 15 اور ایف 35 جیسے 15 جنگی جہازوں سے حملہ نہیں کردیا تھا جب وہاں باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی کیلئے حماس کے ساتھ مذاکرات کئے جارہے تھے؟ اس حملہ میں قطر کا بھی ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ جب خود یہ اڈے ہی ایران کے حملوں سے محفوظ نہیں ہیں تو یہ اپنے میزبان ملکوں کی کیا حفاظت کرسکیں گے؟
مذکورہ تفصیلات میں اس سوال کا جواب بھی پوشیدہ ہے کہ آخر ایران کی طرف سے اتنے حملوں کے باوجود خود ان عرب ممالک نے مل کر کیوں ایران کے خلاف حملہ نہیں کیا؟ درست بات یہ ہے کہ عرب ممالک سمجھ گئے ہیں کہ امریکہ قیمت ان سے وصول کرتا ہے اور تحفظ اسرائیل کو فراہم کرتا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ گئے ہیں کہ اگر ایران ان سے منحرف ہوا تو وہ ان کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جنگی نقطہ نظر سے جائزہ لیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے ان ملکوں میں ’تھاڈ‘ اور’ پیٹریاٹ‘ جیسے دفاعی نظام نصب کر رکھے ہیں۔ ایران کے میزائل حملوں میں سب سے زیادہ نقصان اسی نظام کو پہنچا ہے۔ ایسے میں ایران نے اگر عملاً ان ملکوں کے خلاف حملے کئے تو کیسے ان کا مقابلہ کیا جاسکے گا؟
امریکہ نے کسی بھی عرب ملک کو اسرائیل کے دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ یا اسی جیسا کوئی دوسرا نظام فراہم نہیں ہونے دیا۔ یہاں تک کہ امریکہ میں ایک قانون موجود ہے جس کی رو سے کسی بھی عرب ملک کو ایف 35 جیسے طیارے اگر فراہم کئے بھی گئے تو اسرائیل کو دئے گئے ایف 35 طیاروں سے انتہائی کم صلاحیت کے دئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے سب سے عزیز ترین عرب ملک متحدہ عرب امارات کو بھی امریکہ نے 2020 میں ایف 35 طیارے دینے کا معاہدہ کرنے کے باوجود ابھی تک فراہم نہیں کئے۔ امریکی قانون کے مطابق اس خطہ میں عسکری بالادستی صرف اسرائیل کو ہی حاصل رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیوں؟
عرب ملکوں پر آج تک امریکہ کو بھروسہ نہیں ہوا۔ ایسے میں ایران کا کمزور ہونا اور عرب ملکوں کا ایران سے مراسم توڑ لینا نہ صرف خطہ کیلئے اچھا نہیں ہوگا بلکہ خود عرب ملکوں کیلئے بھی مفید نہیں ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی عرب ملک نے ایران سے مکمل سفارتی تعلقات توڑے بھی نہیں ہیں۔ عرب ملکوں نے جہاں ایران کے حملوں کی مذمت کی ہے وہیں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی بھی سخت زبان میں مذمت کی ہے۔ میں آج بھی اسی موقف کا ہوں کہ اہل عرب ابھی تک ضبط و تحمل‘ بصیرت اور تدبر سے کام لے رہے ہیں۔ ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کرنے کے فیصلہ کے خلاف بھی اہل عرب نے کوئی سخت موقف اختیار نہیں کیا ہے۔وہ اس ضمن میں امریکہ کے جھانسے میں بھی نہیں آئے۔خود یوروپ اور ناٹو نے بھی ٹرمپ کی اس اپیل پر کان نہیں دھرا جس میں انہوں نے ایران کے خلاف موثر اتحاد قائم کرکے آبنائے ہرمز کو بزور طاقت کھلوانے کیلئے ساتھ آنے کو کہا تھا۔
اس وقت زیادہ جانی ومالی نقصان اٹھانے اور دو شیطانوں کے مقابلہ میں انتہائی کمزور ہونے کے باوجود ایران کو مختلف محاذوں پر بالادستی حاصل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے عوامی تباہی والے ہتھیاروں کا شور مچا کر ایران کو ’آبنائے ہرمز‘ کی شکل میں سب سے موثر عوامی افراتفری کا ہتھیار سونپ دیا ہے۔ پوری دنیا افراتفری کا شکار ہے۔۔ اس ہتھیار کا توڑ تنہا امریکہ کے بس میں نہیں ہے۔ ایران کی فضائوں میں کم سے کم دو جنگی جہازوں کے گرائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے ایک پائلٹ کو بھی ایران نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ ایران کے مختلف ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عوامی انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی تعمیر نو کے علاوہ نئے ہتھیار بنانے کا کام بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ اب تو خود امریکی انٹیلی جنس نے ہی تسلیم کرلیا ہے کہ ایران کی ہتھیاروں کی محض ایک تہائی صلاحیت کو ہی ختم کیا جاسکا ہے۔
ایران کے عوام اور ایران کی تمام فورسز اور دیگر شعبہ جات امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل میں سیاسی اور عوامی سطح پر ٹرمپ اور نتن یاہو کے خلاف شدید غصہ اور احتجاج بڑھتا جارہا ہے۔ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔ آرمی اور دوسرے اہم شعبوں کے کئی اہم افسران استعفیٰ دے چکے ہیں۔ کئی کو خود ٹرمپ نے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو تمام تر طاقت ہونے کے باوجود جنگ کے جال میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔۔۔





