ایران کا دعویٰ: امریکہ کا پائلٹ قشم جزیرے میں گم
ایران دعویٰ کا دعویٰ ہے کہ امریکی پائلٹ قشم جزیرے پر گرا، امریکہ نے تردید کی، تلاش جاری، تصدیق نہیں ہوئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی اسلسٹک انقلاب گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے وابستہ سمجھا جانے والا تاسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایک پائلٹ کی تلاش میں ہے، جس کا لڑاکا طیارہ مبینہ طور پر ایران کے فضائی حدود میں گرایا گیا۔تاسنیم نیوز کے مطابق، امریکی پائلٹ کی تلاش میں ہیلی کاپٹرز، جنگی طیارے اور نگرانی کے لیے ڈرونز تعینات کیے گئے ہیں۔ ایجنسی نے مزید کہا کہ یہ کارروائی خلیج فارس کے اہم سمندری راستے، ہورموز سٹریٹ کے قریب قشم جزیرے کے اوپر واقع ہوئی۔
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پہلے ہی ان دعوؤں کو مسترد کر چکی ہے کہ امریکہ کا کوئی لڑاکا طیارہ ایران کے فضائی حدود میں تباہ ہوا۔ سینٹ کام کے بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ ایسے کسی واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ تاسنیم کے تازہ دعوے سینٹ کام کے اس بیان سے متعلق ہیں یا نہیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک مقامی چینل کے نیوز ریڈر نے اعلان کیا کہ جو بھی امریکی پائلٹ کو زندہ پکڑے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ یہ پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے دعوے بعض اوقات کشیدگی بڑھانے یا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ خلیج فارس میں طیاروں اور جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے یہ خطہ حساس سمجھا جاتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کا حادثہ یا لڑائی عالمی سطح پر تشویش پیدا کر سکتی ہے۔یہ معاملہ عالمی میڈیا میں زیرِ بحث ہے اور امریکہ اور ایران کے تعلقات کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں اس کے اثرات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر اضافی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ابھی تک اس معاملے میں کوئی غیر جانبدار اور تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، اور بی بی سی سمیت دیگر بین الاقوامی ادارے اس کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔





