آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے کی حمایت
آسٹریلیا نے ایران کے جوہری عزائم روکنے کی حمایت کی، مگر جنگ کے مقاصد غیر واضح قرار دے کر کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے حالیہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس جاری تنازع کے حوالے سے کچھ اہم سوالات بھی اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس کے مقاصد اور ممکنہ انجام کے بارے میں۔نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران، جو اسی وقت ہوا جب ٹرمپ بھی ایک علیحدہ موقع پر گفتگو کر رہے تھے، البانیز نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ واضح نہیں ہے کہ اس جنگ کا حتمی مقصد کیا ہے یا مزید کیا حاصل کیا جانا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنازع میں شفاف اہداف اور واضح حکمتِ عملی نہایت ضروری ہوتی ہے۔
جب ان سے اس ممکنہ مدت کے بارے میں پوچھا گیا جس کے اندر امریکی قیادت اس تنازع کو ختم کرنا چاہتی ہے، تو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلیا کو جنگ کے آغاز سے قبل کسی قسم کی مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال بین الاقوامی شراکت داری کے اصولوں کے برعکس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا کی ترجیح کشیدگی میں کمی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تمام فریقین اس بات پر وضاحت دیں کہ اس تنازع کا اختتام کس طرح متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر یقینی صورتحال عالمی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس سے ایک روز قبل بھی البانیز نے ایک مختصر خطاب میں اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ آسٹریلیا اس جنگ میں براہِ راست شریک نہیں ہے، لیکن اس کے اثرات ملک کے اندر محسوس کیے جا رہے ہیں، خصوصاً مہنگائی میں اضافے کی صورت میں۔وزیرِ اعظم کے مطابق، عالمی حالات میں بگاڑ کے باعث عام شہریوں کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔





