سامراجیت دوبارہ دنیا کو تباہ کرنے میں مصروف
رام پنیانی
ایران پر اسرائیل ۔ امریکہ کے حملوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ ساری دنیا میں تباہی مچادی ہے ۔ تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں ۔ دنیا کے کونے کونے میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ ایک بات ضرور ہے کہ اس جنگ میں امریکہ ۔اسرائیل اور اُن کے حلیفوں کو اُمید تھی کہ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ، ایران تو تباہ ہوا لیکن اسرائیل ۔ امریکہ میں تباہی بھی ہوئی جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی اس تباہی کی زد میں آگئے جیساکہ راقم الحروف نے سطور بالا میں تحریر کیا ہے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے بہت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ سے قبل ایران امریکہ سے مذاکرات میں مشغول تھا اور مذاکرات والے بعض نکات ماننے کیلئے یہاں تک کہ یورونیم کی افزودگی روکنے یا پھر اُسے کم سے کم کرنے کیلئے بھی تیار تھا لیکن ان ہی مذاکرات کے دوران اسرائیل ۔ امریکہ اتحاد نے جنگ شروع کرنے کافیصلہ کیا اور ابتدائی مرحلہ میں ایران کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ۔ ان میں سے ایک بدترین واقعہ بلکہ سانحہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے کچھ ارکان خاندان کا قتل تھا جبکہ دوسرا سانحہ لڑکیوں کے ایک اسکول پر بمباری تھی جس میں زائد از 165 کمسن لڑکیاں شہید ہوگئیں ۔ ان حالات میں ہندوستان کا کردار اس کی تبدیل ہوتی ہوئی خارجہ پالیسی کو پوری طرح عیاں کرتا ہے ۔ ہندوستان نے غیرجانبدارانہ پالیسی سے اپنی خارجہ پالیسی کی شروعات کی تھی اور ایران کے ساتھ ہمارے ملک کے انتہائی خوشگوار دوستانہ تعلقات تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی روابط نہایت مضبوط و مستحکم تھے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے جنگ کے آغاز سے قبل اسرائیل کا دو روزہ دورہ کیا ، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور وہاں انھوں نے اسرائیل کااعلیٰ ترین شہری اعزاز حاصل کیا۔ اُس دورہ کے مقصد کا انکشاف نہیں کیا گیا اور برسرعام یہ عہد کیا کہ ہندوستان خوشی غم یعنی ہرحال میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اس کے دوسرے دن ہی اسرائیل ۔ ہندوستان کا غیرجانبداری سے ہٹ کر امریکہ ۔ اسرائیل اتحاد کی جانب جھکاؤ مودی کے اقدامات اور خاموشی سے واضح ہوگیا ہے ۔
اب امریکی کہانی کی طرف واپس آتے ہیں ۔ عالمی سطح پر ہم امریکہ کے کردار کو دیکھ رہے ہیں ۔ خاص طورپر 1950 ء کی دہائی سے وہ دوسرے ملکوں کے داخلی اُمور میں مسلسل مداخلت کرتا رہا ہے اور وہ بھی اپنے مخصوص سیاسی اور اقتصادی مقاصد کو لیکر امریکہ دوسرے ملکوں کے معاملات میں اپنی ٹانگ اڑا رہا ہے ۔ امریکہ نے بار بار یہی نعرہ لگایا کہ دنیا کو کمیونزم سے بچانا ہے اور اس بہانہ کمیونسٹ ملکوں کے خلاف جنگیں چھیڑی گئیں جس کی شروعات ویتنام جنگ سے ہوئی ۔
آپ کو یاد دلادیں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایران میں برطانیہ اپنی غیرمعمولی موجودگی رکھتا تھا ۔ یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے اینگلو ۔ ایران آئیل کمپنی کے ذریعہ ایران کے تیل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا اور ایرانی وسائل کا پنے مفادات کیلئے استعمال کرنے لگا لیکن یہ رجحان 1951 ء میں اس وقت اچانک تبدیل ہوگیا جب ایرانی پارلیمنٹ جس کی قیادت قوم پرست اور جمہوری طورپر منتخب محمد مصدق کی حکومت کررہی تھی اس پارلیمنٹ نے ملک کی تیل کی صنعت کو قومیانے کے حق میں ووٹ دیا نتیجہ میں برطانیہ اور امریکہ محمد مصدق اور اُن کی حکومت کے دشمن بن گئے پھر دنیا نے دیکھا کہ برطانیہ نے محمد مصدق حکومت کی مخالفت شروع کردی اور اُن کے خلاف اپوزیشن کو متحد کیا ۔ اس معاملہ میں برطانیہ کو امریکہ کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہوئی جس کے باعث ایران میں ایک بغاوت برپا کرکے جمہوری طورپر منتخبہ حکومت کو بیدخل کردیا گیا اور رضا شاہ پہلوی کی حکومت قائم کردی گئی جو امریکہ کی آلہ کار اور کٹھ پتلی حکومت تھی ۔ اس طرح مغربی طاقتوں نے ایران میں تیل سے متعلق مغربی تیل کے مفادات محفوظ رہے ۔
دوسری جانب چلی کے سابق صدر Salvador Allende اور اُن کی حکومت کے خاتمہ کی کہانی بھی ویتنام اور ایران میں حکومتوں کی تبدیلی سے متعلق کہانیوں سے مختلف نہیں۔ امریکہ نے نہ صرف Salvador Allende کو خودکشی پر مجبور کیا بلکہ اُن کی جمہوری طورپر منتخبہ حکومت کو بھی گرادیا ۔ سلواڈرایلنڈے ایک مارکسسٹ سوشلسٹ پارٹی کے رکن تھے ۔ 3 نومبر 1970ء کو اُنھوں نے چلی کے صدر کی حیثیت سے اپنے عہدہ کا حلف لیا تھا ، اُن کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے چلی کی تانبہ کی کمپنیوں کو جن پر امریکی مفادات کا غلبہ اور امریکیوں کا کنٹرول تھا قومیانے کا فیصلہ کیا جس پر امریکہ برہم ہوگیا ۔ سینٹ کی جانب سے 1995 ء میں تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے چلی میں بغاوت کیلئے 1970 اور 1973 ء کے درمیان خفیہ کارروائیوں پر تقریباً 8 ملین ڈالرس خرچ کرڈالے ۔ افغانستان پر سویت یونین کے قبضہ کے بعد امریکہ نے پاکستان کے بعض مدارس کی حمایت کرکے مجاہدین کو تربیت فراہم کرنے میں مدد کی اور اس نیٹ ورک سے طالبان و القاعدہ کی پیدائش ہوئی۔ امریکہ نے اُنھیں تقریباً 8 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کی اور محمود ممدانی کی کتاب گڈ مسلم ، بیاڈ مسلم کے مطابق 7000 ٹن اسلحہ فراہم کیا۔ 11 ستمبر 2001 (9/11)واقعات کے بعد امریکہ نے اسے افغانستان پر حملہ کا جواز بنایا جہاں کم از کم 60 ہزار افراد جہاں بحق ہوئے جبکہ علاقہ پر غلبہ کیلئے عام تباہی کے ہتھیاروں کا بہانہ بناکر عراق پر قبضہ کیا اور عراق کو بری طرح تباہ کردیا گیاپھر داعش کو لایا گیا سامراجی طاقتیں متاثر ممالک اور پوری دنیا پر خطرناک اثرات چھوڑتے ہیں جس کا اندازہ ہندوستان میں پھوٹ ڈالو حکومت کرو سے متعلق انگریزوں کی پالیسی سے لگایا جاسکتا ہے جس کی سزاء آج بھی سارے ملک کو بھگتنی پڑ رہی ہے ۔





