ایران امریکا اسرائیل کشیدگی میں اضافہ، عرب ممالک کو پیغام
ایران نے امریکی اسرائیلی ٹھکانوں پر حملے کیے، عرب ممالک کو بھائی چارے کا پیغام دیا، کشیدگی اور حملے جاری ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جہاں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کی جانب سے مختلف عرب ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے عرب ممالک کے لیے مفاہمت اور بھائی چارے کا پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران، سعودی عرب کو ایک برادر ملک سمجھتا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی کارروائیاں صرف ان قوتوں کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتی ہیں اور نہ ایرانیوں کا، اور جو خطے میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
عراقچی نے عرب دنیا پر زور دیا کہ وہ حالیہ کارروائیوں کا جائزہ لے اور یہ وقت ہے کہ وہ اپنے ممالک سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر غور کریں۔ دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یروشلم میں کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب کہ دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہے۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی علاقے میناب میں پانچ خودکش ڈرونز کو ہلکے ہتھیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا۔ اسی طرح وسطی ایران کے شہر اصفہان کے قریب ایک جدید امریکی ڈرون کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر سعودی عرب کے ایک علاقے میں گرنے والے ڈرون کے ملبے سے چند گھروں کو معمولی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
علاقائی صورتحال مزید اس وقت پیچیدہ ہو گئی جب خلیجی پانیوں میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب بھی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ عراق میں بغداد ایئرپورٹ کے نزدیک ایک امریکی سفارتی مقام پر ڈرون حملے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکا ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے کنٹرول میں لینے کے ایک پیچیدہ منصوبے پر غور کر رہا ہے، جسے ماہرین انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے درمیان عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔





