دبئی بندرگاہ پر فضائی حملہ، آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی
دبئی بندرگاہ پر حملہ، آئل ٹینکر میں آگ، عملہ محفوظ، خطے میں کشیدگی اور خطرات میں اضافہ.
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع ایک اہم بندرگاہ پر حالیہ فضائی حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایک آئل ٹینکر بری طرح متاثر ہوا۔ حکام کے مطابق اس واقعے نے بندرگاہی سرگرمیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور فوری طور پر ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ صورت حال کو قابو میں لایا جا سکے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بجھانے کے لیے سمندری فائر فائٹنگ یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے، جو مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز پر موجود تمام 24 عملے کے افراد محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچا، جو ایک بڑی راحت کی بات سمجھی جا رہی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ، جو پاسدارانِ انقلاب سے منسلک سمجھے جاتے ہیں، نے اس واقعے سے کچھ دیر قبل ہی دعویٰ کیا تھا کہ ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان رپورٹس کے ساتھ کچھ تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں جن میں مبینہ طور پر حملے کے بعد کی صورت حال دکھائی گئی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ چند گھنٹے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کسی ممکنہ معاہدے پر آمادہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی، تو ایران کی توانائی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان نے پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ ایران کی کارروائیاں خلیجی ممالک کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف ہیں جنہیں ودشمن حملہ آورقرار دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے وقار کو نظرانداز کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی افواج کو نکالنے پر غور کرے۔مجموعی طور پر یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کسی بھی لمحے حالات مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔





