سیاسی بصیرت

پاکستان کا عالمی کردارہم کیوں پریشان

روش کمار

پاکستان عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس معاملہ میں اسے کامیابی بھی مل رہی ہے۔ ایران ۔ امریکہ ۔ اسرائیل جنگ ختم کروانے کی عالمی سطح پر جو کوششیں ہورہی ہیں، ان میں پاکستان کلیدی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا رول ادا کررہا ہے اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کے فوجی سربراہ اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات بھی کی۔ فینانشیل ٹائمز میں رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ جنرل منیر نے ٹرمپ کو فون کیا اور صلح کرانے کی پیشکش کی تو اس موڑ پر اس جنگ میں پاکستان کا کردار اچانک بڑا دکھائی دینے لگا اور سوال ہے کہ ابھی تک کہ حالات میں ہندوستان کا کیا کردار رہا۔ جنگ رُکوانے میں پاکستان کا حصہ اور ہندوستان کا نہیں۔ ہندوستان کے خارجی تعلقات کے ماہرین اپنے اندازوں کو کیسے پیش کرنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔ پوری دنیا میں اس بات کے چرچے ہیں کہ مغربی ایشیاء کے سب سے بڑے بحران میں اچانک سے پاکستان کا کردار اتنا اہم کیسے ہوگیا؟ کیا پاکستان بھی امن کا پجاری ہوگیا۔ ابھی تک کی سفارتی پہل میں ہندوستان کہاں ہے اور کیوں نہیں ہے یہ سوال پوچھا جانا چاہئے۔ 23 مارچ کو ٹرمپ نے کہاکہ ایران سے بات چیت چل رہی ہے تب انھوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ اسے لیکر ہندوستانی خبررساں ایجنسی ANI نے ٹرمپ کی پریس سکریٹری سے سوال پوچھا تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کردیا اور کہاکہ قیاس آرائیاں مت کیجئے۔ کسی میٹنگ کو لے کر کسی قسم کی قیاس آرائیوں کو تب تک قطعی نہیں مانا جانا چاہئے جب تک وائٹ ہاؤس اِن کی تصدیق نہیں کرتا۔ 23 مارچ کو ٹرمپ کے بیان کے بعد ہی امریکہ کی ایک ویب سائٹ XCOS نے رپورٹ کیاکہ اس بات چیت میں مصر، ترکیہ اور پاکستان کا کردار ہوسکتا ہے۔ وہ رپورٹ ذرائع کے حوالوں سے تھی لیکن اب صورتحال کافی صاف ہوچکی ہے۔ سنی ایک ہیں تو تالیاں بجیں، یوکرین جنگ کے وقت ثالث کا کردار نبھانے والے ترکیہ کی جگہ اچانک پاکستان کا کردار بڑا دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ اسرائیل ترکیہ کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جس سنی Axis کی بات کرتا ہے اس میں ترکیہ بھی آتا ہے۔ امریکہ بھی ترکیہ کو لیکر زیادہ پرجوش نہیں ہوگا کیوں کہ جب ٹرمپ نے غزہ پیس پلان کے لئے ترکیہ کو رکھنا چاہا تو اسرائیل نے اعتراض کیا مگر اس بار امریکہ نے یہ موقع پاکستان کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں دکھادیا خلیج کے دونوں سنی پاورس اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ ترکیہ کو اب نظرانداز کررہا ہے لیکن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کو بات چیت میں لے آیا ہے اس لئے سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان سے بات کرنے کے فیصلہ میں سعودی عرب نے کوئی کردار ادا کیا ہوگا؟ آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے نظر آرہا ہے۔ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کی دفاعی معاملت ہے، اس سے بات چیت کرکے امریکہ، ایران کو پیغام دے رہا ہوگا کہ آپ پاکستان کو اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں لیکن اس کی بات چیت ہم سے بھی ہے ہمارا دوست بھی ہے۔ کرکٹ کی زبان میں بات کریں تو ہندوستان کا گودی میڈیا کیچ کیلئے تیار تھا لیکن گیند باؤنڈری لائن کے باہر چلی گئی۔ یہاں گودی میڈیا کے چیانلوں میں بہت بحث ہورہی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ہی جنگ رُکواسکتے ہیں۔ کیا ہندوستان جنگ رُکوا پائے گا؟ تین دن پہلے انڈیا ٹی وی کے پردے پر یہ سوال چلایا گیا۔ تباہی کے درمیان دنیا کو مودی سے اُمید، کیا پی ایم مودی رکیں گے جنگ؟ یہ ریپبلک بھارت کا سوال تھا۔ صرف بھارت روک سکتا ہے ایران جنگ نیوز 18 کی سرخی تھی۔ ایران ۔ اسرائیل کی جنگ ختم کراسکتا ہے بھارت، کیوں پی ایم مودی پر ٹکی دنیا کی نگاہیں؟ ٹی وی 9 کی یہ ہے سرخی۔ کس بنیاد پر ہندوستان میں اس سوال پر بحث ہورہی ہے کہ بھارت کے پاس امن کا منتر ہے۔ امن کا منتر ہونے کی پہلی شرط ہے کہ جس ملک نے حملہ کیا اس کا نام لے کر مذمت کی جائے۔ کیا بھارت ایسا کرسکا۔ فن لینڈ کے صدر نے 18 مارچ کو ضرور کہا میں سوچ رہا ہوں کہ کون جنگ بندی کرواسکتا ہے۔ یوروپ کے ملک یا بھارت مگر نام آگیا پاکستان کا۔ جب یہ جنگ شروع ہوئی تب سے ہی بھارت کے اخبارات میں کئی مضامین شائع ہوئے ہیں کہ اس جنگ کو رُکوانے میں بھارت کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔ 20 مارچ کو ناگپور کے وشوا ہندو پریشد کے پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان آپ کو کئی جگہوں پر شائع مل جائے گا۔ موہن بھاگوت نے کہاکہ آج دنیا کے کئی ملکوں میں جنگیں ہورہی ہیں اور کئی ملکوں سے یہ آواز اُٹھ رہی ہے کہ صرف بھارت ہی اس جنگ کو ختم کرسکتا ہے۔ یہ ایسا اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ بھارت کی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہیں اور اس بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں۔ موہن بھاگوت کن ملکوں کی مانگ کی بنیاد پر کہہ رہے تھے کہ جنگ صرف بھارت ختم کرسکتا ہے کیوں کہ بھارت کی تہذیب و تمدن کچھ الگ ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں دنیا میں دو بڑی جنگیں ہوئیں۔
پچھلے ایک سال میں ایران اور اسرائیل کے درمیان دو بار ہوئی، یوکرین اور روس کے درمیان 4 سال سے جنگ جاری ہے۔ ان دو جنگوں کو رُکوانے میں بھارت نے کونسا کردار نبھایا۔ اگر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بھارت وشوا گرو بن گیا ہے اور جنگ رُکواسکتا ہے تو ملک کے سامنے ایک دو مثالیں پیش کرنا ہی چاہئے کہ کس جنگ کو رُکوانے میں بھارت کی سفارتکاری نے گہرا کردار ادا کیا۔ اگر بھارت رُکوا سکتا ہے تو اُس نے آخر پہل کیوں نہیں کی اس کی عوام کتنی پریشان ہے حکومت کا بجٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے۔ جنگ رُکوانے سے بھارت کو کون روک سکتا ہے۔ اگر کسی نے روکا ہوا ہے تو بھارت جنگ کیسے رکوا سکتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ جنگ اب ختم ہوچکی ہے اور اس میں بھارت کا کوئی کردار نہیں بچتا مگر اس اہم پڑاؤ پر اگر پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے تو سوال بھارت سے ہونا چاہئے۔ بھارت اور ایران کی دوستی کی تاریخ تہذیب اور روایات تک جاتا ہے۔ سفارتکاری اس کے بعد کی چیز ہے پاکستان کا اُبھرتا کردار۔ وزیراعظم مودی کے لئے کیا اچھی خبر مانی جاسکتی ہے یا انھوں نے جنگ سے پہلے اسرائیل جاکر غلطی کردی اور اب یہ غلطی بڑی دکھائی دینے لگی ہے۔ جو ملک حملہ کرنے والا ہے اس کا دورہ کرنے کا فیصلہ کس کا تھا۔ مرکزی وزارت خارجہ کی یہ سوچی سمجھی سفارت کاری اور حکمت عملی تھی یا وزیراعظم مودی کا اپنا فیصلہ تھا کہ ایران جیسے پرانے دوست کو چھوڑ کر اس ملک کا دورہ کیا جائے جو ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔ بھارت کے لئے یہ عجیب سی سفارتی صورتحال ہے کہ اب بھارت کسی بھی قسم کی امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار قبول کرسکتا ہے۔ وزیراعظم مودی کو جب ٹرمپ نے فون کیا تب کیا انھوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اس بارے میں کچھ بھی بات ہوئی کہ ہم نے ایک سال پہلے اپوزیشن ارکان پارلیمان کے ساتھ اپنے ایم پیز کو دنیا کے کئی ملکوں میں بھیجا۔ یہ بتانے کے لئے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے نہ تو اسے لیکر کوئی سوال پوچھ رہا ہے نہ ہی کوئی بیان آرہا ہے۔ بھارت کے اخبارات میں اس خبر کو صفحہ اول پر جگہ دی گئی لیکن ٹرمپ نے اس بات چیت کے بعد کوئی ٹوئٹ نہیں کیا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں