دی مسلم انسٹی ٹیوٹ میں دوروزہ قومی سیمینارکادوسرادن کامیابی سے ہمکنار
دی مسلم انسٹی ٹیوٹ کولکاتا میں اردو خودنوشت پر قومی سیمینار کامیابی سے اختتام پذیراورسہ ماہی فکر و تحریر کے حالیہ شمارے کی رونمائی۔
دی مسلم انسٹی ٹیوٹ، کولکاتا کے زیرِ اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بہ عنوان “اکیسویں صدی میں اُردو خود نوشت” کے دوسرے دن کا اجلاس نہایت علمی و فکری جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا۔ واضح رہے کہ اس سیمینار کا شاندار آغاز کل بروز بدھ 25 مارچ 2026ء کو حاجی محمد محسن ہال، دی مسلم انسٹی ٹیوٹ کولکاتا میں ہوا تھا۔ یہ سیمینار مغربی بنگال اُردو اکادمی کے مالی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی نظامت جناب منظر جمیل نے انجام دی۔ اجلاس کا آغاز نہایت سنجیدہ علمی فضا میں ہوا جس میں مختلف مقالہ نگاروں نے اُردو خود نوشت کے متنوع پہلوؤں اور اکیسویں صدی کی متعدد خود نوشتوں پر اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے۔
پہلا مقالہ عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا کے شعبۂ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد نے “انتظار حسین کی خود نوشت ‘جستجو کیا ہے’: ایک مطالعہ” کے عنوان سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود نوشت انتظار حسین کی داخلی و خارجی زندگی کی عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار اور تقسیم ہند کی بھر پور منظر نگار ہے، تاہم انہوں نے اسے ماضی کی نوحہ خواں قرار دیتے ہوئے اس پہلو کو اس کی ایک بڑی کمزوری بھی بتایا۔ مزید یہ کہ فنی تقاضوں کی مکمل پاسداری نہ ہونے کے باعث اس میں سفرنامے کے عناصر بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
دوسرا مقالہ آفاق حیدر نے “زماں قاسمی اور ‘کارواں گزر گیا’” کے عنوان سے پیش کیا۔ انہوں نے اس خود نوشت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ 118 صفحات اور 17 ابواب پر مشتمل یہ تصنیف اپنی خوبیوں کے باوجود مصنف کی آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پاتی، تاہم مجموعی طور پر اس میں خود نوشت نگاری کے بنیادی اوصاف موجود ہیں، اگرچہ بعض مقامات پر زبان دفتری اور غیر دل چسپ محسوس ہوتی ہے۔
تیسرا مقالہ فیضان احمد (ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، کلکتہ یونیورسٹی) نے غضنفر کی خود نوشت “دیکھ لی دنیا ہم نے” کے تجزیاتی مطالعے پر پیش کیا۔ اس کے بعد سہ ماہی “فکر و تحریر” کے جنوری تا مارچ 2026ء کے شمارے کی رونمائی پروفیسر محمد کاظم (دہلی یونیورسٹی) کے ہاتھوں عمل میں آئی۔
چوتھا مقالہ شکیلہ بانو (ریسرچ اسکالر، کلکتہ یونیورسٹی) نے “سلطان شاہد کی خود نوشت ‘میں اور میری صحافتی زندگی’: ایک تجزیاتی مطالعہ” کے عنوان سے پیش کیا، جبکہ پانچواں مقالہ عبد الوارث (ریسرچ اسکالر، جے این یو، نئی دہلی) نے “اکیسویں صدی کی اردو خود نوشت ‘حکایتِ ہستی’: ایک اجمالی جائزہ” کے عنوان سے پیش کیا۔
اس اجلاس کی صدارت پروفیسر عباس رضا نیر (صدر شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی) نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے تمام مقالہ نگاروں کے مقالات کا تجزیاتی جائزہ لیا اور خاص طور پر اس امر کو سراہا کہ اس سیمینار میں طلبہ و طالبات کی فعال نمائندگی رہی جو اسے مزید کامیاب بناتی ہے۔ ہدیۂ تشکر جناب ساجد پرویز (اعزازی ڈیبیٹ سکریٹری، دی مسلم انسٹی ٹیوٹ) نے پیش کیا۔
پہلے اجلاس کے اختتام کے فوراً بعد دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس کی نظامت ڈاکٹر سید ومیق الإرشاد علی القادری (سیکٹ لکچرر کلکتہ گرلس کالج) نے انجام دی، جبکہ صدارت ڈاکٹر نعیم انیس (اعزازی جنرل سیکرٹری، دی مسلم انسٹی ٹیوٹ) نے فرمائی۔
اس اجلاس میں پہلا مقالہ ڈاکٹر محمد امتیاز احمد (صدر شعبۂ اردو، کلکتہ گرلس کالج) نے احمد سعید ملیح آبادی کی خود نوشت “میری صحافتی زندگی” پر پیش کیا اور اسے اپنے عہد کی بھرپور عکاسی کرنے والی اہم تصنیف قرار دیا۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر شاہد اقبال (مانو ریجنل سینٹر، کولکاتا) نے قتیل شفائی کی خود نوشت “گھونگروں ٹوٹ گئے” پر پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ تصنیف ایک شاعر کی ذاتی زندگی اور اس کے فن کے درمیان ایک مضبوط پُل کا کردار ادا کرتی ہے اور فلمی دنیا کے پس پردہ حقائق کو بے نقاب کرتی ہے۔ انہوں نے اس کی بے باکی کو اس کا امتیازی وصف قرار دیا۔
تیسرا مقالہ ارشاد آرزو (اسسٹنٹ ماسٹر، کلکتہ مدرسہ اے پی ڈیپارٹمنٹ) نے رئیس الدین فریدی کی خود نوشت “دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھا” کے تجزیاتی مطالعے پر پیش کیا، جسے انہوں نے فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کی ایک زندہ دستاویز قرار دیا۔ چوتھا مقالہ ڈاکٹر احمد معراج نے ف۔س۔ اعجاز کی خود نوشت “یہ میں ہوں” پر پیش کیا اور اسے سوانحی مضامین کا مجموعہ قرار دیا جو ان کی مکمل حیات کا احاطہ نہیں کرتا۔
آخری مقالہ پروفیسر عباس رضا نیر نے شارب ردولوی کی خود نوشت “نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم” اور ملک زادہ منظور احمد کی خود نوشت “رقصِ شرر” کے تقابلی مطالعے پر پیش کیا، جس میں انہوں نے دونوں تصانیف کے اسلوبیاتی اور فکری امتیازات کو اجاگر کیا۔
اختتامی مرحلے میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نعیم انیس نے تمام مقالہ نگاروں کی کاوشوں کو سراہا اور ان کے مقالات پر مختصر مگر نہایت بامعنی تجزیاتی گفتگو پیش کی۔ تاثراتی کلمات جناب اشرف جعفری، ڈاکٹر سعید احمد، جناب اشرف یعقوبی، جناب اعجاز احمد ، پروفیسر زین رامش، محترمہ فرزانہ پروین اور پروفیسر عباس رضا نیر نے پیش کیے۔ تمام تأثراتی مقررین نے اس منفرد اور سنجیدہ نوعیت کے سیمینار کے کامیاب انعقاد پر ڈاکٹر نعیم انیس کو مبارک باد پیش کی اور موضوع کے انتخاب، حسن انتظام اور مقالہ نگاروں کے سلیکشن اور معیار کو بے حد سراہا۔
آخر میں ہدیۂ تشکر جناب شمس الصالحین اعزازی ایجوکیشن سکریٹری دی مسلم انسٹی ٹیوٹ نے پیش کیا، جس کے بعد ظہرانے کے ساتھ یہ دو روزہ قومی سیمینار سہ پہر ساڑھے تین بجے بہ حسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔






