یورپی پارلیمنٹ امریکہ معاہدہ معطل: تجارتی کشیدگی اور مارکیٹ اثرات
یورپی پارلیمنٹ امریکہ معاہدہ معطل کرنے کا ارادہ رکھتی، گرین لینڈ تنازع، مالیاتی مارکیٹس متاثر، تجارتی کشیدگی بڑھ گئی۔
یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے قریبی ذرائع کے مطابق، یورپی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس معاہدے کی معطلی کا اعلان بدھ کے روز فرانس کے شہر سٹرسبورگ میں کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کر چکے ہیں اور اس معاملے پر انہوں نے نئے ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی ہے۔معاہدے کے تعطل نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثر ڈالا ہے اور تجارتی جنگ کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں۔ منگل کے روز بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جب کہ یورپی سٹاک مارکیٹس مسلسل دوسرے دن خسارہ دکھا رہی تھیں۔ امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس ایک اعشاریہ سات فیصد سے زائد کم ہوا، ایس اینڈ پی 500 میں دو فیصد سے زیادہ کمی آئی، اور نیسڈیک تقریباً دو اعشاریہ چار فیصد گر کر بند ہوا۔ بدھ کے روز ایشیا پیسیفک خطے میں سٹاک مارکیٹس ملا جلا رجحان دکھا رہی تھیں، جاپان اور آسٹریلیا کی مارکیٹس قدرے نیچے رہی، جبکہ چین کے مین لینڈ میں حصص کی قیمتیں بڑھیں۔
اس دوران قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بھی متاثر ہوئیں۔ سونا پہلی بار 4800 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گیا، جبکہ چاندی کی قیمت ریکارڈ سطح 94 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی۔ سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں سونے اور چاندی کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، اگرچہ ایک دن میں اس کی قدر میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی دیکھی گئی جو دسمبر کے بعد سب سے بڑی روزانہ گراوٹ تھی۔امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی کشیدگی جولائی میں کچھ کم ہوئی تھی، جب دونوں فریقین نے سکاٹ لینڈ کے ٹرن بیری گالف کورس میں ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت زیادہ تر یورپی مصنوعات پر امریکی ٹیرف 15 فیصد مقرر کیے گئے تھے، جو پہلے اعلان شدہ 30 فیصد سے کم تھے، اور یورپ نے بدلے میں امریکہ میں سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، اس معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی تصدیق ضروری ہے۔
گذشتہ ہفتے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی ٹیرف کی دھمکی کے بعد یورپی پارلیمنٹ کے بااثر جرمن رکن مانفریڈ ویبر نے کہا کہ اس مرحلے پر معاہدے کی منظوری ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے نے کہا کہ گرین لینڈ پر دھمکیوں کی وجہ سے معاہدے کو معطل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ لانگے نے مزید کہا کہ امریکہ کی یہ کارروائی یورپی یونین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کے استحکام اور پیش گوئی کے قابل ہونے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔لانگے نے کہا کہ ٹرن بیری کے دونوں قانونی اقدامات پر کام اسی وقت تک معطل رہے گا جب تک امریکہ تعاون کے راستے پر واپس نہیں آتا اور کوئی اضافی اقدامات کیے بغیر تصادم سے گریز کرتا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے مطابق، یہ اقدام عالمی تجارت اور مالیاتی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی ضرورت اب پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔





