سیاسی بصیرت

اسرائیلی انتخابات: کچھ نہیں بدلا

ودود ساجد

(ایڈیٹر: روزنامہ انقلاب)

اسرائیل میں حال ہی میں اختتام پذیر الیکشن اور اس کے نتائج پر مختلف حلقے مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان میں ایک حلقہ ایسا بھی ہے کہ جو غزہ اور مقبوضہ فلسطین کے ایک لاکھ سے زائد نہتے افراد کے قاتل نتن یاہو کی شکست پر فرحت و اطمینان کا اظہار کر رہا ہے۔ کچھ لکھنے والوں نے بھی جوش میں آکر کافی کچھ لکھا ہے۔
بلاشبہ نتن یاہو اور اس کی اتحادی جماعتوں کو اتنی نشستیں نہیں مل سکیں جو وہ حکومت سازی کرسکے۔ یہ بھی درست ہے کہ نتن یاہو اور اس کے اتحاد کے مخالف گروہ کو بھی حکومت سازی کیلئے مطلوب نشستیں نہیں مل سکیں۔ اسے تو نتن یاہو کے اتحاد سے بھی کم نشستیں حاصل ہوئیں۔ یہ بھی درست ہے کہ اس الیکشن میں اسرائیل میں آباد 20 لاکھ عرب اسرائیلی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف عرب جماعتوں کو پہلے سے دوگنی نشستیں مل گئی ہیں۔ بظاہر انہی کی وجہ سے نتن یاہو اور اس کے حریف ’آئزن کوٹ‘ کا کھیل بگڑ گیا ہے۔ لیکن یہ صورتحال فلسطین کا دکھ درد رکھنے والوں کو کوئی حقیقی راحت نہیں بخشتی۔
اسرائیل کے انتخابی نتائج میں عالم اسلام اور دوسری دنیا کے مسلمانوں کی دلچسپی قضیہ فلسطین کے سبب ہی تو ہے۔ تو اسرائیل کے انتخابی نتائج میں قضیہ فلسطین کیلئے کوئی راحت کا سامان نہیں ہے۔ اسرائیل میں صرف ایک قانون ساز ایوان یعنی پارلیمنٹ ہے۔ اس کا عبرانی نام ’کنیسیٹ‘ ہے۔ اس میں کل 120 نشستیں ہیں۔ حکومت بنانے کیلئے کسی بھی پارٹی یا محاذ کو کم سے کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ جبکہ نتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ہی مل سکی ہیں۔ اس کے مخالف اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں۔ اسرائیل میں میدان میں امیدوار نہیں ہوتے بلکہ ووٹ پارٹیوں کو دیا جاتا ہے۔ جس پارٹی کو قومی سطح پر جتنے فیصد ووٹ ملتا ہے اسی کے حساب سے اسے نشستیں الاٹ کردی جاتی ہیں اور پھر پارٹی اپنے ممبروں کو نامزد کرکے ایوان میں بھیجتی ہے۔ تین اعشاریہ 25 فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی کو کچھ نہیں ملتا۔ ایسی دو پارٹیاں ہیں جنہیں مجموعی طور پر دو فیصدووٹ ملاہے۔
نتن یاہو کی پارٹی ’لیکود‘ ہے۔ 2022 میں اسے 23.41 فیصد ووٹ اور 32 نشستیں ملی تھیں۔ اب 2026 میں اسے 20.58 فیصد ووٹ اور27 نشستیں ملی ہیں۔ اس اعتبار سے نتن یاہو کا ووٹ فیصد محض تین اور نشستیں محض پانچ کم ہوئی ہیں۔ اب بھی سب سے بڑی پارٹی اسی کی ہے۔ اب یہاں ٹھہر کر یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ جب نتن یاہو کو اندرون ملک بدعنوانی کے مختلف مقدمات کا سامنا ہے ‘ بین الاقوامی عدالت انصاف اسے نسل کشی کا مجرم قرار دے کر اس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرچکی ہے‘ اس کے ہاتھوں پر غزہ کے 70 ہزار سے زیادہ نہتے فلسطینیوں کا خون ہے‘ اس نے دس لاکھ سے زیادہ اہل غزہ کو بے گھر اور غزہ کی 90 فیصدعمارتوں کو تباہ کردیا ہے‘ پورے مشرق وسطیٰ کا امن اس کی وجہ سے درہم برہم ہے اور اس خطہ کا کوئی ملک اس کی شرپسندی سے محفوظ نہیں ہے‘ پوری دنیا میں یہودیوں کی زندگی کو اس نے غیر محفوظ بنا دیا ہے اور سب سے بڑھ کر اسی کی غفلت وکوتاہی اور اہل غزہ پر مسلسل جبر کے سبب سات اکتوبر 2023 کو 1200 سے زیادہ اسرائیلی شہری اپنی جان سے چلے گئے توآخر کیسے اسرائیل کے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد نے اسے ووٹ دیدئے؟
نتن یاہو کہہ رہا ہے کہ الیکشن میں فراڈ ہوا ہے۔ وہ اس کا ذمہ دار عرب پارٹیوں کو قرار دے رہا ہے۔ نتن یاہو کا حریف ’گادی آئزن کوٹ‘ ہے۔ اس بار اپوزیشن نے اسی کی قیادت میں الیکشن لڑا ہے۔ اس کے نظریات بھی نتن یاہو سےکچھ مختلف نہیں ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج کا سابق چیف ہے۔ اس کے ماضی کو جاننے کیلئے میں نے دو روز تک انٹرنیشنل میڈیا کی متعدد رپورٹوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اسے ’نظریہ ضاحیہ‘ کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ اور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن اور حقوق انسانی کے تحفظ کی متعدد تنظیموں نے اس نظریہ کی سخت تنقید کی ہے۔
ضاحیہ عرب ملک لبنان کی راجدھانی بیروت کی ایک بستی ہے۔ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ میں بیروت کی اسی بستی سے اسرائیلی فورسز کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آئزن کوٹ اس وقت لبنان کے محاذ پر تعینات ایک سینئر کمانڈر تھا۔ اس نے ایک تفصیلی دستاویز میں اسرائیلی حکومت کو جو نظریہ پیش کیا تھا اس میں یہ بھی کہا تھا کہ جس مقام سے اسرائیلی فورسز پر حملے کئے جائیں وہاں کے عام لوگوں کو بھی تناسب سے کئی گنا زیادہ نشانہ بنایا جائے۔ لہٰذا ضاحیہ نامی بستی کو سب سے زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی وجہ سے اس نظریہ کا نام ’ضاحیہ ‘ رکھا گیا۔
عالمی مبصرین کہتے ہیں کہ اکتوبر 2023 میں شروع کی جانے والی دو سالہ جنگ میں بھی اسرائیل نے غزہ میں اسی نظریہ کو اختیار کیا اور ایک ہلاک شدہ اسرائیلی کے بدلے 50 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا۔ فروری 2016 میں آئزن کوٹ کے اس بیان کی پوری دنیا میں سخت تنقید کی گئی کہ ’’میں نے اپنے فوجی جوانوں سے کہہ دیا تھا کہ جب ایک 13سالہ فلسطینی لڑکی قینچی لے کر آئے تو اس پر اپنی بندوق کی گولیاں ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے جب اس سے کم طاقت کا استعمال کرکے کام بن جائے۔‘‘ اس جملہ کی سنگینی پرغور کیجئے تو آئزن کوٹ کا غلیظ اور سفاک کردار بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔
نتن یاہو اور آئزن کوٹ کے ساتھ جو مختلف پارٹیاں ہیں فلسطین کے تئیں ان سب کا نظریہ کم و بیش ایک جیسا ہی ہے۔ یہاں تک کہ بعض پارٹیاں تو ان دونوں سے بھی سخت نظریہ رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر نتن یاہو کے دو اتحادی ’بضالل اسموترش‘ اور ’اتمار بن غفیر‘ انتہائی ظالم وجابر اور سفاک ذہنیت کے حامل ہیں۔ ان دونوں نے نتن یاہو حکومت میں پچھلے چار سالوں میں جو کچھ کیا ہے اس کی تفصیلات انتہائی بھیانک ہیں۔ اسرائیل میں 79 فیصد آبادی یہودیوں کی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسرائیل میں آباد تمام یہودی‘ فلسطینیوں پر ظلم و جبر کے حامی ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کے سامنے جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ان سب کا نظریہ تو تقریباً یکساں ہی ہے۔ جو پارٹیاں کچھ معتدل رویہ رکھتی بھی ہیں ان کی سیاسی قوت بہت کم ہے۔
کچھ واقعات پہلی بار ہوئے ہیں : اس بار دوسرے ممالک میں موجود 67 ہزار اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کیلئے اسرائیل آئے۔ 2022 میں 71 فیصد پولنگ ہوئی تھی‘ اس بار 78 فیصد ہوئی۔ اسرائیل کی 21 فیصد عرب آبادی نے ووٹ ڈالنے میں جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ 2022 میں ان کا پولنگ فیصد 53 تھا‘اس بار 76 فیصد تک پہنچ گیا۔ پچھلی بار ان عرب جماعتوں نے 10 نشستیں حاصل کی تھیں‘ اس بار 19 تک پہنچ گئیں۔ عرب سیاسی جماعتوں کے مختلف سیاسی نظریات کا جائزہ ایک مستقل موضوع ہے لیکن ان سطور میں اتنا بتانا ضروری ہے کہ عرب ووٹرز اسرائیل کی تقریباً تمام یہودی جماعتوں کو بھی ووٹ دیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے نتن یاہو کی پارٹی کو بھی ووٹ دیا تھا۔ 2019 میں 29 فیصد عرب اسرائیلیوں نے یہودی جماعتوں کو ووٹ دیا تھا۔2021 میں یہ تعداد گھٹ کر 20 اور 2022 میں 14 رہ گئی۔
بلاشبہ اس بار اسرائیل کے عرب ووٹرز جوش و خروش کے ساتھ ووٹ دینے نکلے۔ اس بار غالباً انہوں نے یہودی جماعتوں کو کچھ بھی ووٹ نہیں دیا۔ ابھی اس کا مکمل ڈیٹا الیکشن کمیشن نے جاری نہیں کیا۔ تاہم اس عمل میں فلسطین اور اہل غزہ کے خلاف اسرائیل کی بھیانک جنگ کا بھی اہم کردار ہے۔ لیکن فلسطینی امور کے معتبر ترین ماہر ’مصطفی برغوثی‘ کہتے ہیں کہ اسرائیل کی عرب پارٹیاں بھی اسی لئے ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں کہ اسرائیل کی فلسطین مخالف پالیسیاں اب خود انہیں بھی متاثر کرنے لگی ہیں۔ عربوں کے ساتھ اسرائیل میں بھیانک امتیاز برتا جاتا ہے۔ اس کی تفصیلات پھر سہی۔
جیسا کہ بتایا گیا کہ نتن یاہو کا حریف آئزن کوٹ ہے۔ وہ بھی الگ ریاست فلسطین کا مخالف ہے‘ وہ بھی ناجائز قبضے ختم کرنے کا حامی نہیں ہے‘ وہ بھی فلسطینی زمینوں پر یہودیوں کی ’آبادکاری‘ کی پالیسی کو بدلنا نہیں چاہتا‘ وہ بھی غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فورسز کی یکطرفہ کارروائیوں کا دفاع کرتا رہا ہے۔ ہرچند کہ اس کا یہ بیان بھی ریکارڈ میں ہے کہ فلسطینیوں پر عمومی طور پر فائرنگ سے گریز کرنا چاہئے لیکن ’نظریہ ضاحیہ‘ کی موجودگی میں اس کے اس بیان کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ نتن یاہو کا اتحاد اگر دائیں بازو سے تعلق رکھتا ہے تو آئزن کوٹ کا اتحاد صہیونیوں کا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت سازی کا کیا ممکنہ منظرنامہ سامنے ہے؟ جواب یہ ہے کہ دونوں گروہ (نتن یاہو/آئزن کوٹ) عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی تگ ودود کر رہے ہیں۔ عرب پارٹیوں کی حمایت کے بغیر کوئی بھی حکومت نہیں بناسکتا۔ ان کے بغیر صرف اس صورت میں حکومت بن سکتی ہے جب نتن یاہو اور آئزن کوٹ مل جائیں یا ان دونوں کی اتحادی پارٹیاں ایک دوسرے کیلئے ٹوٹ جائیں۔ بظاہر یہ ممکن نہیں ہے۔ دونوں کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ الیکشن سے پہلے دونوں گروہوں نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عرب پارٹیوں کا ساتھ نہیں لیں گے۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ عرب پارٹیاں باہم بھی متحد نہیں ہیں۔ ان کے بھی کئی گروپ ہیں۔
حکومت کسی کی بھی بنے اور وزیر اعظم کوئی بھی بن جائےاصل تشویش کا نکتہ یہ ہے کہ امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) میں جب حسب روایت اسرائیل کا وزیر اعظم جائے گا تو اس کا بھی اسی طرح پرتپاک خیر مقدم کیا جائے گا‘ اسے بھی امریکہ ہتھیار اور مالی مدد دے گا اورسب سے بڑھ کر امریکہ کی اسرائیل کے تئیں پالیسی نہیں بدلے گی تو وزیراعظم کے بدلنے سے کیا ہوگا؟ یوروپ کے بیشتر ممالک اسرائیل کو ضرورت کے تمام ہتھیار فراہم کرتے ہیں‘ وہ آئندہ بھی اسی طرح کرتے رہیں گے۔ انہوں نے تو اس وقت بھی خطرناک ہتھیاروں کی سپلائی نہیں روکی جب اسرائیل اہل غزہ پر یہاں تک کہ معصوم بچوں اور حاملہ خواتین پر مسلسل بم برسا رہا تھا اور پوری دنیا تڑپ اٹھی تھی۔
بیشتر یوروپی ممالک نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں پر بار بار ناگواری ظاہر کی لیکن دنیا کے انصاف پسند طبقات کے مطالبات کے باوجود اسے خطرناک ہتھیاروں کی سپلائی نہیں روکی۔ اٹلی کی وزیراعظم ’جارجیا میلونی‘ کا دل خاتون ہوکر بھی نہیں پسیجا اور اس نے بھی ‘سپلائی معطل کرنے کے اعلان کے باوجود سپلائی جاری رکھی۔ بہرحال صہیونیت نوازوں نے آئزن کوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سازی کیلئے عرب پارٹیوں سے بات کی جائے۔ اب اگر مذکورہ بالا صورتوں میں سے کوئی بھی کام نہ آئی تو آخری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوں گے۔ اس میں جتنا بھی وقت لگے اس وقت تک مکمل اختیارات کے ساتھ نتن یاہو ہی وزیراعظم رہے گا۔
نتن یاہو نے عرب پارٹیوں پر الیکشن فراڈ اور قطر وغیرہ کے ذریعہ فنڈ فراہم کرنے کے الزامات عاید کئے ہیں۔ ان الزامات کو الیکشن کمیشن اور اسرائیل کی پولیس نے مسترد کردیا ہے۔ اسرائیل کے صدر ’اسحاق ہرزوگ‘ نے کہا ہے کہ الیکشن میں بیرونی مداخلت کے الزام کی مکمل جانچ ضرور کی جائے لیکن نتن یاہو کو خبردار بھی کیاہے کہ’عرب کمیونٹی کی شبیہ خراب نہ کی جائے‘۔ وقت کس طرح بدلتا ہے!

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں