نوجوانوں کے ووٹنگ حق کا معاملہ، نہا بورا نے اٹھائی آواز
آئسا صدر نہا بورا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر جانبداری، نوجوانوں کو ووٹنگ سے محروم رکھنے اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ اپوزیشن نے علامتی مواخذے کی قرارداد منظور کی۔
نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نہا بورا نے ہفتے کے روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے منعقدہ ایک علامتی مواخذے کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے بعض اقدامات سے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے ملک کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔یہ پروگرام کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا، جہاں ایک فرضی پارلیمانی اجلاس کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں موجود شرکا نے اس تجویز کی متفقہ طور پر حمایت کی۔
نہا بورا نے اپنے خطاب میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی خودمختاری برقرار رکھنے اور جمہوریت کے تقدس کو محفوظ بنانے کے لیے سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے ایک مخصوص طریقۂ کار وضع کیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق اس طریقۂ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے تقرری عمل میں لائی گئی، جو جمہوری اصولوں اور ووٹ کی اہمیت کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی ادارے کی غیر جانب داری جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس ادارے پر عوام کا اعتماد برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر تقرری کے عمل میں طے شدہ اصولوں کی پاسداری نہ کی جائے تو اس سے ادارے کی آزادی اور غیر جانب داری متاثر ہو سکتی ہے۔
آئسا کی صدر نے انتخابی فہرستوں میں نام درج کرانے کے لیے استعمال ہونے والے فارم نمبر 6 میں مبینہ تبدیلیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا الزام تھا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان نہ صرف ملک کی سیاسی صورت حال کو سمجھتا ہے بلکہ سیاسی فیصلوں اور جمہوری عمل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔نہا بورا نے ان مبینہ اقدامات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی منصوبہ بند حکمت عملی قرار دیا اور انتخابی نظام میں شفافیت و جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے اس پروگرام کا مقصد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنے سیاسی اور جمہوری اعتراضات کو نمایاں کرنا تھا۔ تاہم، پروگرام میں پیش کی گئی قرارداد ایک علامتی کارروائی تھی، اسے پارلیمنٹ میں قانونی مواخذے کی باضابطہ منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔






