مودی کی سالگرہ پر دیے، راہل کا حکومت سے تیکھا سوال
اجین میں وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریب، کانگریس رہنما نے قبائلی بچوں کی اموات، صحت کی سہولتوں اور مبینہ بدعنوانی پر حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
مدھیہ پردیش میں وزیراعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر اجین میں لاکھوں دیے روشن کرنے کے حکومتی منصوبے نے سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ریاست کی موہن یادو حکومت نے اس موقع پر بڑے پیمانے پر تقریبات کا اہتمام کیا ہے، جس پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی تقریبات کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، اجین کے ضلع کلکٹر روشن کمار سنگھ نے بتایا کہ 17 ستمبر کی شام مہاکال کوریڈور کے قریب دریائے شپرا کے کنارے 25 لاکھ دیے جلانے کا پروگرام رکھا گیا ہے۔ اس انتظام کے لیے تقریباً 30 ہزار رضاکاروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ انتظامیہ کی جانب سے اس تقریب کو وزیراعظم کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ موہن یادو نے صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم مودی کی قیادت اور حکمرانی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر کے ساتھ مل کر دن منایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، حکومت نے اس موقع پر ’سیوا سنکلپ مہا ابھیان‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد خدمت اور عوامی فلاح کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس مہم کو وزیراعظم کی قیادت میں جاری عوامی خدمت کی سرگرمیوں سے جوڑا گیا ہے۔دوسری جانب راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے مدھیہ پردیش میں صحت عامہ اور بچوں کی حالت زار پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالا کھاٹ ضلع میں 30 سے زیادہ قبائلی بچوں کی بیماری، غذائی قلت اور بنیادی طبی سہولتوں کی کمی کے دوران موت ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان واقعات کے باوجود حکومتی کارروائی میں تاخیر ہوئی اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت مدد نہیں مل سکی۔
کانگریس رہنما نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کے دور دراز علاقوں کی صورت حال کا جائزہ لیں۔ انہوں نے خاص طور پر بچوں کی صحت، غذائیت، پینے کے صاف پانی اور سرکاری طبی نظام کی خرابیوں کو اپنی تنقید کا مرکز بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ریاست کے ان علاقوں میں جہاں قبائلی آبادی رہتی ہے، وہاں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اپنے بیان میں انہوں نے مدھیہ پردیش میں مبینہ طور پر غیر معیاری ادویات اور غیر قانونی زہریلی شراب سے ہونے والے نقصانات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ایسی مبینہ سرگرمیوں کی وجہ سے کئی خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد اندور پہنچیں گے اور ریاست کے زمینی حالات کا جائزہ لیں گے۔راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کی تعلیمی صورت حال پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کا تعلیمی نظام بدانتظامی اور دیگر مسائل کا شکار ہے۔ تاہم، ان کے ان الزامات کے حوالے سے خبر میں کسی آزادانہ تحقیقات، سرکاری اعداد و شمار یا حکومت کے تفصیلی جواب کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
کانگریس رہنما نے آخر میں مدھیہ پردیش حکومت کو ملک کی سب سے بدعنوان اور بدانتظام حکومت قرار دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے محض تقریبات پر توجہ دینے سے ریاست کے بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔
یہ سیاسی تنازع وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر اجین میں منعقد ہونے والی دیوں کی تقریب اور مدھیہ پردیش میں صحت و تعلیم کے مسائل کے درمیان حکومتی ترجیحات پر جاری بحث کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف ریاستی حکومت اس تقریب کو عوامی خدمت اور جشن کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا زور بنیادی سہولتوں اور حکومتی جواب دہی پر ہے۔ بالآخر ان الزامات اور دعوؤں کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ، صحت کے اعداد و شمار اور آزادانہ تحقیقات اہم ہوں گی۔





