بریلوی قیادت کا افسوسناک بحران
سمیع اللہ خان
مولانا توقیر رضا خان پر یوگی آدتیہ ناتھ کا ظلم اور سُنّی مسلم قائدین کی خوف و بزدلی اور انتہا پسندانہ پالیسیاں:
محترم مولانا توقیر رضا خان صاحب بریلوی مرحوم احمد رضا خان بریلوی صاحب کی اولادوں میں سے ہیں جنہیں ہندوستان میں اہلسنت بریلوی مسلم جماعت کا امام و پیشوا مانا جاتا ہے، انہیں یوگی آدتیہ ناتھ جیسے مغرور و متکبر ظالم نے جس انداز میں گرفتار کروایا وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا اس پر ہم خود تڑپ اٹھے تھے اور کئی دنوں تک اس پر آواز اٹھاتے رہے، لیکن جب خود جناب توقیر صاحب کے اپنوں کی طرف سے خاموشی اور سناٹے کو محسوس کیا تو بہت افسوس ہوا,
محترم توقیر رضا صاحب کی گرفتاری کو یوگی آدتیہ ناتھ کتنا بڑا کارنامہ سمجھتا ہے کہ وہ اب تک دسیوں مرتبہ ہندوؤں کے عوامی مجمع میں فخریہ یہ بات کہہ چکا ہے اور کہتا رہتا ہے کہ میں نے بریلوی کے اس مولانا کو اٹھا کر دکھایا اور گرفتار کیا ہے، اور یقیناً مرحوم احمد رضا خان صاحب کی اولادوں میں سے ایسے مشہور اور قدآور لیڈر کو گرفتار کیا جانا کوئی معمولی بات بھی نہیں ہے، بعض سیاسی ایوانوں میں تو یہ بھی سنا ہےکہ مرکزی حکومت یعنی مودی۔شاہ کا خیمہ اس گرفتاری کے حق میں نہ تھا کیونکہ ان کے مطابق یہ ملکی سطح پر بڑا مسئلہ ہو جائے گا، لیکن یوگی نے اسے کر دکھایا اور اس کے بعد جس طرح بریلوی خیمے کی قیادت نے سردمہری اور سناٹے کا مظاہرہ کیا اس سے خود بھاجپا کی قیادت کو حیرت ہوئی، اور سَنگھ پریوار میں یوگی کے اس اقدام اور اس اقدام کےبعد ردعمل بھی نہ ہونے دینے کی صلاحیت نے یوگی آدتیہ ناتھ کے گریڈ کو بڑھا دیا ، یہ ہندوستانی مسلمانوں کی مجموعی طور پر بڑی ناکامی اور خصوصی طور پر بریلی حلقے کی قیادت کا بدترین بحران تھا !
اب تک مولانا توقیر رضا خان صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور یوگی آدتیہ ناتھ اور ہندوتوادی طبقہ ان کی گرفتاری کا آج تک جشن مناتا رہتا ہے، لیکن کس درجہ افسوس و الم کی بات ہے کہ ان کے معاملے میں بریلوی ملی حلقے بدترین سناٹے میں ہیں_
یہ جہاں بریلوی حلقے کی قیادت میں موجود بدترین آپسی خلفشار کا ثبوت ہے وہیں اس حلقے کی قیادتی سطح پر پائی جانے والی خوف و بزدلی اور آپسی انتہاپسندی کا مَظہر ہے، محترم توقیر رضا صاحب کو اور ان کے متعلقین کو یوگی اور اس کی ظالمانہ انتظامیہ نے بدترین مظالم کا شکار بنایا جیل ، گرفتاریاں، چھاپے ، بلڈوزر بےدریغ استعمال ہوئے لیکن مدارسِ دینیہ، ملی فورمز سے لے کر متبرک درگاہوں کی قیادتوں نے انہیں اس ظلم کی بھٹّی میں نہ صرف خوف کی وجہ سے تنہا چھوڑا بلکہ اس وجہ سے بھی انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا کیونکہ وہ دیوبندی جماعت سے سیاسی اور ملّی مسائل میں اتحاد کے بھی قائل تھے !
آپس میں لڑتے رہنے والے مسلمان اور ہمیشہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن پر چڑھنے کے لیے بے تاب رہنے والی قوم کا یہی انجام اور ایسا ہی زوال ہوتا ہے کہ وہ اصل دشمنوں اور ظالموں کے مقابلے میں بزدل و بےبس رہ جاتی ہے اور وہن کی بیماری کا شکار ہو جاتی ہے، ان کے اندر حقیقت میں بہادری اور بےخوفی شجاعت و حقیقت پسندی کا شعور ہے یا نہیں اس کا اصل امتحان ایسے ہی موقعوں پر ہوتا ہے جب قومیں ایسی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں تو انہیں اپنی غلامی اور پستی کا احساس دیر سے ہوتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو آپسی لڑائی کی لت لگ جاتی ہے، اور پھر ان کے نصیب میں ذلت و غلامی طویل ہوجاتی ہے۔
مولانا توقیر رضا صاحب کو میں جانتا ہوں اور ان کی گرفتاری سے مجھے آج بھی تکلیف ہے اور جس طرح مسلم قائدین پر ہندوتوادی سرکاروں کے مظالم پر ان کے متعلقہ حلقے انہیں خوف، تعصب اور نفاق کی علانیہ علامات کے ساتھ تنہا چھوڑ دیتے ہیں اس سے مزید تکلیف ہوتی ہے، خواہ معاملہ حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب کی گرفتاری کا ہو یا ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے گھر پر دہلی پولیس کی چھاپہ ماری کا واقعہ ہو، یا مختار انصاری صاحب کی کسٹڈی میں موت کا معاملہ ہو یا شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلم سیاستدان عتیق اشرف برادران کا دردناک قتل ہو، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بزرگ ممبر ای۔ابوبکر صاحب کی گرفتاری ہو، یا اعظم خان اور ان کے گھرانے پر یوگی کا جاری سفاک ظلم و ستم ہو،، ان سب میں مسلمانوں کا من حیث المجموع کردار خوف، بزدلی اور نفاق سے عبارت نظر آتا ہے، مستزاد یہ کہ جس متکبرانہ انداز میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے یوگی اور اس کے ہمنواؤں نے مولانا توقیر رضا خان صاحب کو جیل میں ڈالا گیا اس سے مزید افسوس ہوتا ہے کہ اس کے باوجود سب خاموش رہے اور مسلمانانِ ہند نے اس کو محسوس تک نہیں کیا کہ ظالم ہندوتوا کے نزدیک مرحوم احمد رضا صاحب کی اولاد کو گرفتار کرنا کتنا بڑا واقعہ ہے، یہ ملی غیرت میں بدترین گراوٹ کا کھلا ثبوت ہے !
مولانا توقیر رضا صاحب مسلمانوں کے ملی مسائل پر اور ہندوتوادی مظالم کے خلاف جس بہادری اور غیرت سے آواز اٹھاتے تھے وہ بھاجپا اور سنگھ کو ٹکر دینے کی جرات ہوتی تھی لیکن افسوس صد افسوس کہ مسلمان ہر وقت آپس میں مسلکی لڑائیوں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کو آج بھی زیادہ ترجیح دیتے ہیں یا ہر اس معاملے میں بڑے بہادر بن کر دکھاتے ہیں جس میں ان کا مدمقابل مسلمان ہو لیکن جب اصل دشمنانِ دین اور ظالموں کے خلاف آئینی و جمہوری مزاحمت کا معاملہ آتا ہے تو وہ خوف و بزدلی اور نفاق کی چادر تان لیتے ہیں ۔ آج اتنے دن ہوچکے توقیر رضا صاحب سلاخوں کے پیچھے ہیں ہم ان کے لیے واقعی درد محسوس کرتے ہیں لیکن جب ان کے اپنے حلقے میں ایسا سناٹا پاتے ہیں تو تکلیف مزید ہوتی ہے کہ کسی کو احساس ہی نہیں کہ یہ کیسا ظلم ہے جو روا رکھا گیا ہے، اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ آج ہم مسلمانوں میں سے ہی اپنے اس ایک حلقے کو اس درد پر اور ان کے بحران پر متوجہ کیا جائے، لیکن اگر کوئی بھی شخص اس آواز کو مسلکی رنگ دینا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ تعوذ فوراً پڑھے کیونکہ ہمارے متعلق ایسے خیالات سوائے وسوسہءشیطانی کے اور کچھ بھی نہیں ہوں گے یہ ملّی جذبے اور ایمانی حمیت و محمدی غیرت کی آواز ہے ۔
اللہ تعالیٰ مولانا توقیر رضا صاحب کو جلد از جلد رہائی عطا فرمائے اور ان کی ملی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر انہیں اس کا اجر عطا فرمائے ۔






