اظہارِ محبت بھی جرم ٹھہرا
جاوید اختر بھارتی
محبت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نہایت پاکیزہ، فطری اور مقدس نعمت ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کے دل میں خلوص، ایثار، ہمدردی اور قربانی پیدا کرتا ہے۔ محبت صرف دو دلوں کو ہی نہیں بلکہ خاندانوں، معاشروں اور پوری انسانیت کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں محبت کی اصل روح کہیں کھو سی گئی ہے۔ آج محبت کو کردار، اخلاص اور وفاداری کی بجائے دولت، حسن، شہرت اور سماجی حیثیت کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اظہارِ محبت بھی جرم بن گیا ہے۔
جب کوئی غریب شخص اپنے دل کی بات زبان پر لاتا ہے تو اکثر اسے حقارت، طنز یا مذاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے جذبات کو یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے کہ وہ اس رشتے کے قابل نہیں، کیونکہ اس کے پاس دولت، اعلیٰ ملازمت یا آسائشیں نہیں ہیں۔ دوسری طرف اگر یہی اظہار کسی مالدار یا بااثر شخص کی طرف سے ہو تو اسے خوش قسمتی، کامیابی یا بہترین رشتہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم انسان کی اصل قدر کو بھول کر اس کی مالی حیثیت کو اہمیت دینے لگے ہیں۔
اسی طرح ظاہری حسن کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ خوبصورت چہروں کو آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے جبکہ سادہ شکل و صورت رکھنے والے افراد کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، خواہ ان کا کردار کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔ حالانکہ حسن وقت کے ساتھ ڈھل جاتا ہے، مگر اچھا اخلاق، وفاداری، عزت، خلوص اور محبت ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ جو رشتہ صرف خوبصورتی کی بنیاد پر قائم ہو، وہ اکثر وقت کی آزمائش میں کمزور پڑ جاتا ہے، جبکہ کردار اور اعتماد پر قائم ہونے والے رشتے مضبوط اور پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا نے اس سوچ کو مزید تقویت دی ہے۔ آج لوگ حقیقت سے زیادہ دکھاوے کو پسند کرتے ہیں۔ مہنگے لباس، قیمتی گاڑیاں، بڑی تقریبات اور مصنوعی طرزِ زندگی کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سچے جذبات اکثر پسِ پشت چلے جاتے ہیں، اور محبت بھی ایک مقابلہ یا نمائش بن کر رہ جاتی ہے۔
اسلام کی تعلیمات اس سوچ کے بالکل برعکس ہیں۔ اسلام انسان کی عزت کا معیار دولت، رنگ، نسل یا خوبصورتی کو نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور اخلاق کو قرار دیتا ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں بھی انہی اصولوں کو اپنایا جائے تو نہ کسی غریب کے جذبات مجروح ہوں گے اور نہ کسی کی سچی محبت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ اور رویوں کا جائزہ لیں۔ ہمیں چاہیے کہ انسانوں کو ان کی نیت، کردار، اخلاق اور وفاداری کی بنیاد پر پہچانیں، نہ کہ ان کے لباس، بینک بیلنس یا ظاہری حسن کی بنیاد پر۔ محبت وہی ہے جس میں احترام، اعتماد، قربانی اور اخلاص ہو۔ ایسی محبت نہ کبھی جرم تھی، نہ ہے اور نہ ہی ہو سکتی ہے۔ جرم تو وہ سوچ ہے جو انسان کی قیمت اس کی جیب یا چہرے سے لگاتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محبت کو جرم بنانے والی نہ محبت ہے، نہ غریب انسان اور نہ سادہ صورت؛ بلکہ وہ معاشرتی سوچ ہے جو ظاہری چمک دمک کو حقیقت پر ترجیح دیتی ہے۔ جس دن ہم انسان کی اصل قدر کو اس کے کردار، اخلاق اور اخلاص سے پہچاننا شروع کر دیں گے، اس دن محبت دوبارہ عزت، اعتماد اور پاکیزگی کی علامت بن جائے گی، اور کسی کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ اظہارِ محبت بھی جرم ہے۔
javedbharti508@gmail.com
+++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی





