سپریم کورٹ حکم پر سی جے پی برہم، دوبارہ ملک گیر احتجاج کی دھمکی
سی جے پی نے سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو وعدے پورے نہ ہونے پر دوبارہ ملک گیر احتجاج کی وارننگ دی۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے احتجاج سے متعلق دائر عوامی مفاد کی درخواستوں پر جاری کیے گئے عبوری حکم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم میں حکومت کو پہلے سے درج مقدمات پر کارروائی جاری رکھنے اور تحقیقات آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے احتجاج میں شریک افراد کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔پارٹی کے مرکزی ترجمان سورَو داس نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتِ حال حکومت کی سابقہ یقین دہانیوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق حکومت نے یقین دلایا تھا کہ احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لے لی جائیں گی اور کسی بھی پرامن احتجاج میں شریک شخص کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انہی یقین دہانیوں پر اعتماد کرتے ہوئے سی جے پی نے ملک گیر احتجاجی مہم ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اب سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت اور مختلف بی جے پی حکومت والی ریاستیں ان مقدمات کو برقرار رکھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں احتجاج کرنے والوں کو قانونی کارروائیوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سی جے پی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب حکومت اور پارٹی کے درمیان اس معاملے پر اتفاقِ رائے ہو چکا تھا تو پھر سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء نے عبوری حکم کے اس حصے پر اعتراض کیوں نہیں کیا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ عدالت کے سامنے 25 جولائی کو دی گئی حکومتی یقین دہانیوں کی مکمل تفصیلات پیش کی جانی چاہئیں تاکہ تمام حقائق واضح ہوں اور آئندہ کسی بھی عدالتی فیصلے میں ان امور کو مدنظر رکھا جا سکے۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتی اور مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس نہیں لیے جاتے تو وہ دوبارہ ملک گیر احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔ سی جے پی کے مطابق آئندہ تحریک صرف طلبہ یا احتجاج میں شریک افراد کے حقوق تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اسے ملک کے مستقبل، تعلیمی نظام اور عوامی مفاد سے متعلق وسیع تر مسائل کے لیے چلایا جائے گا۔






