کنال کامرا، سونم وانگچک سمیت تین شخصیات کے خلاف عدالت میں شکایت
چندی گڑھ عدالت میں کنال کامرا، سونم وانگچک اور ابھیجیت دیپکے کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں شکایت دائر، نوٹس جاری۔
چندی گڑھ: جنتر منتر میں ہونے والے ایک احتجاجی پروگرام کے دوران مبینہ طور پر ہندو مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں معروف کامیڈین کنال کامرا، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور سماجی کارکن سونم وانگچک کے خلاف چندی گڑھ کی ایک عدالت میں شکایت دائر کی گئی ہے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ احتجاجی اجتماع کے دوران کی گئی بعض تقاریر اور بیانات سے ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی، جس پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شکایت ایڈوکیٹ وبھو سنگھ سینی کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی۔ ان کے مطابق عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد پیر کے روز متعلقہ فریقین کے نام نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 299 اور 302 کے تحت درج کرایا گیا ہے، جن کا تعلق مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور مذہبی بنیادوں پر قابلِ اعتراض بیانات سے متعلق الزامات سے ہے۔
شکایت گزار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ 15 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر منعقد ہونے والے احتجاجی پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام میں کنال کامرا نے ابھیجیت دیپکے اور سونم وانگچک کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھا۔ الزام ہے کہ تقریب کے دوران کنال کامرا کی بعض گفتگو اور تبصرے ایسے تھے جن سے ہندو مذہب سے وابستہ افراد کے جذبات متاثر ہوئے۔شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ پروگرام کی ایک ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہی۔ شکایت گزار کے مطابق اس ویڈیو میں بھگوان شری رام اور ماتا سیتا کے حوالے سے بعض ایسے ریمارکس سنائی دیتے ہیں جنہیں وہ توہین آمیز قرار دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
فی الحال عدالت نے صرف شکایت کا ابتدائی جائزہ لیتے ہوئے نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس مرحلے پر الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی عدالت نے مقدمے کے میرٹ پر کوئی حتمی رائے دی ہے۔ آئندہ سماعت میں فریقین کا مؤقف سنا جائے گا، جس کے بعد عدالت دستیاب شواہد، ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر مواد کا جائزہ لے کر یہ طے کرے گی کہ مقدمے میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس طرح فی الحال معاملہ عدالتی غور و خوض کے مرحلے میں ہے اور حتمی فیصلہ عدالت کی آئندہ کارروائی کے بعد سامنے آئے گا۔






