نیٹ تنازع: دھرمیندر پردھان مستعفی، ایک ماہ بعد احتجاج کامیاب قرار
نیٹ پرچہ لیک معاملے پر طویل احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ بھیج دیا، سی جے پی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
نئی دہلی: نیٹ (NEET) امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طویل احتجاج کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو بھیج دیا ہے، لیکن اس کی باضابطہ منظوری ابھی باقی ہے۔دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں احتجاج جاری تھا، جس میں مختلف طلبہ تنظیمیں، سماجی کارکن اور کئی نمایاں شخصیات شریک رہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا بنیادی مطالبہ نیٹ پرچہ لیک معاملے میں جوابدہی طے کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم سے استعفیٰ لینا تھا۔
ہفتہ کے روز مرکزی وزراجے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ تیسرے دور کی بات چیت کے بعد سی جے پی نے اپنے کارکنوں اور مظاہرین سے احتجاج ختم کرکے گھروں کو واپس جانے کی اپیل کی۔ پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے ان کے اہم مطالبات پر مثبت پیش رفت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چار ہفتوں بعد حکومت کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہوگی، جس میں تعلیمی اصلاحات اور دیگر مطالبات پر مزید گفتگو کی جائے گی۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو عوامی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری انداز میں مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حکومت کو عوامی مطالبات پر غور کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ احتجاج اس بات کی مثال ہے کہ پرامن عوامی دباؤ کے ذریعے بھی اہم فیصلے ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے تعلیم اور طلبہ کی بہتری کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ مضبوط و شفاف تعلیمی نظام کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ نہیں چاہتے کہ ملک کا تعلیمی ماحول مزید کشیدہ ہو یا طلبہ کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں اور سیاسی تنازعات کی نذر ہو۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو ارسال کیا ہے۔
نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری اس تحریک میں معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی 26 روز تک بھوک ہڑتال کی۔ اس کے علاوہ مختلف طلبہ تنظیموں نے بھی مسلسل احتجاج کیا، جب کہ ملک کے متعدد ادیبوں، فنکاروں اور دانشوروں نے مشترکہ بیان جاری کرکے امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل سامنے آنے والے پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے عوامی امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔






