اتراکھنڈمیں بے روزگارنوجوانوں کااحتجاج،فوری سرکاری بھرتیوں کامطالبہ
اتراکھنڈ میں بے روزگار نوجوان سرکاری بھرتیوں اور رکے ہوئے نتائج کے مطالبے پر سڑکوں پر نکل آئے، حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ۔
دہرادون میں منگل کے روز بڑی تعداد میں بے روزگار نوجوان سرکاری ملازمتوں کی بھرتی کے عمل میں تاخیر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مختلف سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کے اشتہارات فوری طور پر جاری کیے جائیں اور جن بھرتی امتحانات کے نتائج طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں، انہیں بلا تاخیر منظرِ عام پر لایا جائے۔احتجاج کا اہتمام اتراکھنڈ بے روزگار سنگھ کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے نوجوان شریک ہوئے۔ مظاہرین پہلے دہرادون کے پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہوئے، جہاں انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور بعد ازاں سیکریٹریٹ کی جانب مارچ شروع کیا۔
پولیس نے سیکریٹریٹ کے قریب پہلے ہی بیریکیڈز لگا رکھے تھے تاکہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اس دوران کچھ نوجوانوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی، لیکن پولیس نے صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور مظاہرین کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔احتجاج میں شریک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اتراکھنڈ پبلک سروس کمیشن اور اتراکھنڈ سب آرڈی نیٹ سروس سلیکشن کمیشن کے ذریعے کئی سرکاری آسامیوں کے اشتہارات کافی عرصے سے جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث ہزاروں امیدوار غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بعض بھرتی امتحانات کے نتائج بھی طویل عرصے سے رکے ہوئے ہیں، جس سے امیدواروں کی آئندہ تیاری اور منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔
اتراکھنڈ بے روزگار سنگھ کے نائب صدر سورج پنوار نے الزام لگایا کہ حکومت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے دعوے تو کر رہی ہے، لیکن متعدد محکموں میں بھرتیوں کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی اسامیاں خالی ہونے کے باوجود نئی بھرتیاں شروع نہیں کی جا رہیں، جس سے ریاست کے نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زیرِ التوا نتائج جلد جاری کیے جائیں، نئی بھرتیوں کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے اور تقرری کے عمل میں شفافیت اور تیزی لائی جائے تاکہ نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ خدشات دور ہوں۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔






