رام مندر ٹرسٹ میں پھر ہلچل، چمپت رائے کے بیان نے مچا دیا نیا طوفان
رام مندر ٹرسٹ اجلاس سے قبل شدید اختلافات سامنے آئے، چمپت رائے نے الزامات مسترد کیے، ایس آئی ٹی رپورٹ کے بعد انیل مشرا پر تحقیقات کا دباؤ بڑھ گیا۔
ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کی حالیہ میٹنگ سے پہلے حالات خاصے کشیدہ رہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس اجلاس میں شرکت پر آمادہ نہیں تھے، جس کے بعد ٹرسٹ کے سینئر عہدیداروں نے ان سے طویل ملاقاتیں کیں اور کئی گھنٹوں کی مشاورت کے بعد انہیں اجلاس میں آنے پر راضی کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بیرونِ شہر سے آنے والے متعدد سادھو سنتوں کو بھی اس اہم نشست میں شرکت کے لیے قائل کرنا پڑا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرسٹ کے اندرونی اختلافات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ادھر ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ ماحول نسبتاً پرسکون ہو جائے گا، لیکن ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے کے ایکس پر جاری بیان نے بحث کو دوبارہ تیز کر دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مناسب وقت پر تمام اعتراضات کا تفصیل سے جواب دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ وہ کئی دہائیوں سے سماجی اور مذہبی خدمات سے وابستہ ہیں اور 1991 سے رام مندر تحریک اور اس سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
اسی دوران ان کے مبینہ تحریری بیان کا ایک حصہ بھی منظر عام پر آیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مندر کے چندہ بکسوں میں جمع ہونے والی رقم کی گنتی، بینک میں جمع کرانے کے انتظامات اور بینک کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ان کا کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا۔ ان کے مطابق متعلقہ مفاہمتی یادداشت پر ان کے دستخط موجود نہیں اور انہیں رقم کی گنتی یا سکیورٹی کے طریقۂ کار میں کی گئی کسی تبدیلی کی معلومات بھی نہیں تھیں۔ اس مؤقف کے بعد بعض حلقوں کی توجہ انیل مشرا کی جانب مبذول ہوئی، کیونکہ بینک سے متعلق معاہدے میں ان کا نام بطور دستخط کنندہ سامنے آ رہا ہے۔دوسری طرف ٹرسٹ کے خزانچی گووند گری نے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ چمپت رائے سے انتظامی سطح پر کچھ کوتاہیاں ضرور ہوئی ہوں گی، لیکن ان کے مطابق انہیں بدعنوانی یا مالی بے ضابطگی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چمپت رائے نے رام مندر منصوبے کے لیے طویل عرصے تک اہم خدمات انجام دی ہیں اور ٹرسٹ کے ارکان نے بھی اجلاس میں ان کی کوششوں کو سراہا۔
اجلاس سے قبل مہنت نرتیہ گوپال داس کی جانب سے جاری ایک مکتوب میں مندر کے چندے سے متعلق سامنے آنے والے معاملے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ریاستی حکومت اور مرکزی قیادت پر اعتماد ہے کہ اگر کسی کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے، جب کہ انیل مشرا کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد ان سے جلد پوچھ گچھ متوقع ہے۔ دوسری جانب پولیس بھی گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔ اسی کے ساتھ ٹرسٹ میں تنظیمی تبدیلیوں کی تیاری بھی جاری ہے۔ نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور آئندہ اجلاس میں ٹرسٹ کی نئی انتظامی ساخت اور ممکنہ تقرریوں کا اعلان کیے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔






